سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(248) قربانی کے چار دن ہیں

  • 26131
  • تاریخ اشاعت : 2019-08-20
  • مشاہدات : 48

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ صرف 12 ذوالحجہ تک قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قربانی کے صرف تین دن ہیں، آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح فیصلہ تحریر فرمائیں، جزاکم اللہ؟ (حکیم محمد دین، سعد اللہ پور، ضلع گوجرانوالہ براہ ونیکے تارڑ)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ صرف 12 ذوالحجہ تک قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قربانی کے صرف تین دن ہیں، آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح فیصلہ تحریر فرمائیں، جزاکم اللہ؟ (حکیم محمد دین، سعد اللہ پور، ضلع گوجرانوالہ براہ ونیکے تارڑ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قربانی صحیح معنی میں قربانی وہی ہو گی جو نماز عید ادا کرنے کے بعد ذبح کی جائے اور جو قربانی نماز عید ادا کرنے سے پہلے ذبح کی جائے گی وہ قربانی جائز نہیں ہو گی جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہے۔

(عن انس عن النبي صلي الله عليه وسلم من ذبح قبل الصلوة فليعد۔الخ)

"حضرت انس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کی تو وہ دوبارہ قربانی ذبح کرے۔"

(عن جندب بن سفيان قال شهدت النبي صلي الله عليه وسلم يوم النحر فقال من ذبح قبل الصلوة فليعد مكاتها اخري) (صحيح بخاري: ص 834 ج 2)

حضرت جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں "کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز ادا کرنے سے پہلے قربانی ذبح کرتا ہے، وہ دوبارہ قربانی دے۔

رہی یہ بات کہ قربانی کتنے دن تک ذبح کی جا سکتی ہے اور یہی مسئلہ آج کی صحبت میں ہمارے مقالہ کا عنوان ہے۔ چنانچہ اس میں علمائے شریعت کا اختلاف ہے۔ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

(وفي هذه المسئلة اربعة اقوال احدها ان وقت الذبح يوم الاضحيٰ و ثلاثة ايام بعد هذا منقول عن علي والثاني ان وقت الذبح يوم النحر و يومان بعده وهذا مذهب احمد و مالك و ابي حنيفة رحمهم الله والثالث ان وقت النحر يوم واحد وهو منقول عن ابن سيرين والرابع يوم واحد في الامصار و ثلاثة ايام في مني لانها هناك اعمال المناسك من الرمي والطواف والحلق) (زاد المعاد: ص 247 ج 1)

"قربانی کے آخری وقت میں چار اقوال ہیں: پہلا یہ ہے کہ قربانی یوم نحر سے لے کر 13 ذوالحجہ تک ذبح کرنی جائز ہے، جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ سے منقول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی کا جانور صرف بارہ ذوالحجہ تک ذبح کرنا جائز ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، احمد رحمہ اللہ کے علاوہ صحابہ میں سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ قربانی صرف 10 ذوالحجہ کے دن ہی کرنی چاہیے۔ جیسے امام ابن سیرین کا خیال ہے چوتھا قول اس طرح ہے کہ سعید بن جبیر اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ شہری لوگوں کے لئے صرف 10 ذوالحجہ کا دن ہے اور اہل منیٰ کو 12 ذوالحجہ تک قربانی ذبح کرنی جائز ہے۔" کیونکہ حجاج کرام مناسک حج، یعنی رمی جمار، حجامت اور طواف زیارت جیسے فرائض میں مصروف ہوتے ہیں۔

حالانکہ ایک پانچواں قول بھی ہے اور وہ یہ کہ قربانی ایک نیک کام ہے جو آخر ذوالحجہ تک جائز ہے۔ یہ امام ابن حزم کا خیال ہے۔ اب ہم ان تمام اقوال پر علیحدہ علیحدہ تبصرہ کرتے ہیں:

پانچواں قول کہ قربانی آخر ذوالحجہ تک کرنی جائز ہے، صحیح نہیں۔ کیونکہ اس کی تائید میں کوئی مرفوع روایت وارد نہیں ہے۔ ہاں، ایک مرسل روایت ذکر کی جاتی ہے اور مرسل روایت محدثین کے ہاں مقبول نہیں ہے۔ نزهته النظر، تدريب الراوي اور كفايه بغدادي میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ جب صحیح مرفوع حدیث موجود ہو تو محدثین کے علاوہ خود وہ لوگ جن کے نزدیک مرسل حدیث حجت ہوتی ہے، اسے حجت نہیں مانتے، البتہ اس قول کے سلسلہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے مسند احمد کے حوالہ سے ابو امامہ کی ایک روایت نقل کی ہے:

(كان المسلموں يشتري احدهم الاضحية فيستمنها ويذبحها في آخر ذي الحجة قال احمد هذا حديث عجيب) (فتح الباري شرح صحيح البخاري: ص 325، پاره 23)

کہ بعض صحابہ کرام جانور خرید کر ان کو خوب موٹا تازہ کرتے اور ذوالحجہ کے آخر میں ذبح کرتے۔

امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت عجیب قسم کی ہے اور جب یہ خود ہی عجیب ہے تو پھر مرسل کی مؤید کیسے بن سکتی ہے؟

چوتھا قول بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اہل امصار اور اہل منیٰ کی جو تقسیم روا رکھی گئی ہے، ہمیں اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔

اور تیسرا قول تو بالکل غلط ہے کیونکہ یہ قرآن مجید کی نص کے خلاف ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

﴿وَيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ فى أَيّامٍ مَعلومـتٍ عَلى ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـمِ...﴿٢٨﴾... سورة الحج

"ایام معلومات میں قربانی کے جانوروں پر اللہ تعالیٰ کا نام لیں۔"

اور لفظ ایام جمع ہے، لہذا معلوم ہوا کہ خود قرآن مجید میں قربانی کے لئے متعدد ایام کا ذکر موجود ہے۔ لہذا یہ قول صریح طور پر قرآن کے خلاف اور نہایت غلط ہے۔

اب رہا دوسرا قول کہ قربانی عید کے دن سے لے کر بارہ ذوالحجہ تک کرنی جائز ہے اور اس کے بعد جائز نہیں۔ گویا یہ قول بھی درجہ صحت سے گرا ہوا ہے، تاہم حنفیہ اور مالکیہ اس کی تائید میں چند آثار پیش کرتے ہیں۔

1۔ (عن علي النحر ثلاثة ايام۔ الخ)

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قربانی تین دن ہے۔"

یہ قول صحیح نہیں، کیونکہ اس کی سند میں ابن یعلی اور منہال نامی دو راوی ضعیف ہیں۔ حافظ ابن حزم فرماتے ہیں کہ ابن ابی یعلی سيئ الحفظ ہے اور منہال متكلم فيه ہے۔ (محليٰ ابن حزم، ص 377، ج 7) بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے 13 ذوالحجہ تک قربانی ذبح کرنے کا جواز منقول ہے جسے ہم آگے نقل کر رہے ہیں۔

(مالك بن ماعز او ماعز بن مالك ان اباه سمع عمر يقول انما النحر في هذا الثلاثة الايام) (محليٰ ابن حزم، ص 377، ج 7)

یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ قربانی صرف تین دن جائز ہے۔

مگر حافظ ابن حزم فرماتے ہیں:

(عن عمر من طريق مجهول عن ابيه مجهول)

یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں استاد شاگرد، یعنی باپ بیٹا دونوں مجہول ہیں۔ (حوالہ مذکور)

3۔ (عن ابي حمزة عن حرب عن ابن عباس قال ايام النحر ثلاثة ايام)

کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قربانی کے تین دن ہیں۔

مگر یہ قول بھی صحیح نہیں، حافظ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

(فيه ابو حمزة وهو ضعيف)

کہ اس روایت کا ایک راوی ابو حمزہ ضعیف ہے۔

4۔ (عن اسماعيل بن عياش عن عبدالله بن نافع عن نافع عن ابن عمر: ألاضحيٰ يوم النحر و يومان بعده (محليٰ ابن حزم))

کہ قربانی 12 ذوالحجہ تک ہے۔

لیکن یہ قول بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اسماعیل بن عیاش اور عبداللہ بن نافع دونوں ضعیف راوی ہیں۔ (كما قال الامام علي بن حزم في كتابه المحليٰ (ج 7 ص 377))

(عن انس ألاضحيٰ ثلاثة ايام)

کہ قربانی تین دن تک ہے۔

اگرچہ امام ابن حزم نے اس کو صحیح کہا ہے، مگر اس سے دلیل نہیں لی جا سکتی، کیونکہ یہ ان کی اپنی رائے ہے اور دلیل کے لئے مرفوع حدیث درکار ہوتی ہے۔

ان آثار کے علاوہ حنفیہ کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے۔ مگر ان کا یہ دعویٰ دلیل سے کورا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حزم فرماتے ہیں:

(وان كان هذا اجماعا فقد خالفه، عطاء و عمر بن عبدالعزيز والحسن البصري والزهري و ابو مسلمة بن عبدالرحمان و سليمان بن يسار ألاجماع، واف لكل اجماع خرج عنه هولاء) (محليٰ ابن حزم ص 378، ج 7)

کہ اجماع کا دعویٰ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے، کیونکہ امام عطاء، عمر بن عبدالعزیز، حسن بصری، ابو شہاب زہری، ابو مسلمہ اور سلیمان جیسے نامور ائمہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور ایسا اجماع قابل رحم ہے جس کے مخالف ایسے لوگ ہوں۔

اور یہ بات بھی یاد رہے کہ اس روایت کو مشہور محقق حنفی حافظ ذیلعی نے بھی غريب جدا کہا ہے۔ چنانچہ نصب الرأیہ (ص 213، ج4) میں ہے:

(روي عن عمر و علي و ابن عباس انهم قالو ايام النهر ثلاثة افضلها اولها قلت غريب جدا)

لہذا یہ اقوال خود حنفیہ کے ہاں بھی قابل استدلال اور لائق اختیار نہیں ہیں۔ ان چار اقوال پر بحث کرنے کے بعد اب پہلا قول کہ قربانی عید کے دن سے لے کر 13 ذوالحجہ تک ذبح کرنی جائز ہے، باقی رہ جاتا ہے۔ لہذا اب اس پر مفصل بحث کی جاتی ہے۔

ہمارے نزدیک دلائل کی روشنی میں یہ قول اصح اور اثبت ہے، کیونکہ احادیث حسنہ کے ساتھ ساتھ جمہور اہل علم کی بھی یہی رائے ہے۔

(عن جبير بن مطعم قال رسول الله صلي الله عليه وسلم كل فجاج منيٰ منحر و كل ايام التشريق ذبح) (موارد الظمان الي زوائد ابن حبان: ص 249)

کہ منیٰ کی ہر گلی منحر ہے اور پورے ایام تشریق میں قربانی کرنا جائز ہے۔ اس حدیث کو امام دارقطنی نے بھی نقل کیا ہے اور اس کی سند یہ ہے:

(سليمان بن موسيٰ عن عمر و بن دينار عن نافع بن جبير عن النبي صلي الله عليه وسلم) (نيل: ص 216، ج 5)

اس روایت کو حافظ بیہقی اور محدث ابن عدی نے بھی نقل کیا ہے۔ مگر ابن عدی کی روایت میں ایک راوی معاویہ بن یحییٰ صوفی ضعیف ہے۔ محدث بزار، اور محدث ابن حاتم نے بھی اس کو ذکر کیا ہے جیسے کہ نصب الرأیہ (ص 213، ج4) میں ہے۔ لیکن ان تمام طرق کو علامہ ذیلعی اور امام ابن قیم رحمہ اللہ نے منقطع قرار دیا ہے، مگر ان کی یہ جرح درخواعتناء اور اعتبار کے قابل نہیں ہے۔ کیونکہ حافظ ابن حجر نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ عبارت یہ ہے:

(وحجة الجمهور حديث جبير بن مطعم رفعه، كل فجاج منيٰ منحر و كل ايام التشريق ذبح اخرجه احمد لكن في اسناده انقطاع ووصله الدارقطني ورواته ثقات) (فتح الباري: ص 345 پاره 23)

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث جمہور اہل علم کی دلیل ہے کہ ایام تشریق میں قربانی ذبح کرنی جائز ہے۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ مگر اس کی سند میں انقطاع ہے اور امام دارقطنی نے اسے موصول بیان کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ اور جب اس روایت کو محدث ابن حبان نے اپنی صحیح میں ذکر کر دیا ہے تو پھر اس انقطاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مزید برآں امام شوکانی رحمہ اللہ نے بھی محدث ابن حبان کی روایت کی صحت کو تسلیم کیا ہے۔ (نيل الاوطار: ص 216 ج 5)

نیز خود محقق علامہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ایک حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اور دوسرے اسامہ بن زید سے اور اسامه بن زيد عن عطار عن جابر سے بھی روایت کیا ہے اور اسامہ بن زید والی روایت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ (زاد المعاد: ص 247 ج 1)

(قال يعقوب بن سفيان اسامة بن زيد عند اهل المدينة ثقة مامون)

اہل مدینہ کے نزدیک اسامہ قابل اعتماد اور مامون راوی ہے۔ بلکہ حق بات یہ ہے کہ خود حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کے نزدیک بھی 13 ذی الحجہ تک قربانی ذبح کرنی جائز ہے۔ چنانچہ 12 ذی الحجہ تک قربانی کرنے والوں کی طرف سے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

(فاما نهيم عن ادخار لحوم الاضاحي فوق ثلاث فلا يدل علي ان ايام الذبح ثلاثة فقط لان الحديث دليل علي نهي الذابح ان يدخر شيئا فوق ثلاثة ايام من يوم ذبحه فلو اخر الذبح الي اليوم الثالث الجاز له الادخار وقت النهي بينه و بين ثلاثة ايام)

"کہ تین دن سے زیادہ مدت تک گوشت کا ذخیرہ کرنے کے متعلق جو امتناعی حکم ہے، وہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ قربانی صرف تین دن تک ہے کیونکہ اگر قربانی تیسرے دن ذبح کی جائے تو تین دن سے زائد ایام تک گوشت کو ذخیرہ کر لینا جائز ہو گا۔"

جمہور اہل علم کا یہی مذہب ہے، جیسا کہ فتح الباری کے حوالہ سے اوپر لکھا جا چکا ہے:

(قال علي بن ابي طالب ايام النحر يوم الاضحيٰ و ثلاثة ايام بعده وهو مذهب امام اهل البصرة الحسن و امام اهل مكة عطاء بن ابي رباح و امام اهل الشام الاوزاعي و امام فقهاء اهل حديث الشافعي رحمه الله واختاره ابن المنذر) (زاد المعاد: ص 246 ج 1)

"کہ جناب علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک 13 ذی الحجہ تک قربانی ذبح کرنی جائز ہے۔ بصرہ کے امام حسن رحمہ اللہ مکہ معظمہ کے امام عطاء رحمہ اللہ، شام کے امام اوزاعی اور سرخیل فقہاء اہل حدیث حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اور اسی مذہب کو حضرت ابن المنذر جیسی شخصیت نے پسند فرمایا ہے۔ نووی شرح مسلم میں ہے:

(فقال الشافعي يجوز في يوم النحر و ايام التشريق ثلاثة بعده ومن قال بهذا علي بن ابي طالب و جبير بن مطعم و ابن عباس و عطاء والحسن البصري و عمر بن عبدالعزيز و سليمان بن موسيٰ الاسدي فقيه اهل الشام مكحول وداؤد الظاهري و قال سعيد بن جبير لاهل القريٰ يوم النحر و ايام التشريق) (نووي: ص 153، 2، نيل الاوطار: ص 216 ج 5)

"یعنی امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عید کے دن اور عید کے تین دن بعد ایام تشریق میں بھی قربانی ذبح کرنی جائز ہے، اور یہی قول ہے حضرت علی بن طالب، جبیر بن مطعم اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم، تابعین میں سے حضرت حسن بصری، عطاء، عمر بن عبدالعزیز، حضرت سلیمان، حضرت مکحول، امام داؤد الظاہری اور سعید بن جبیر کا اور امام ابن المنذر رحمۃ اللہ علیہم کا بھی اسی طرف رجحان ہے۔

اس طرح حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کتاب الاختیارات میں لکھا ہے کہ آخر وقت:

(ذبح الاضحية آخر ايام التشريق وهو مذهب الشافعي واحد قولي احمد) (الاعتصام: 28 فروري ص 69)

قربانی کے ذبح کرنے کا ایام تشریق کا آخری دن۔

اس قول کی تائید عقبہ بن عامر کی اس صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے:

(ايام التشريق ايام اكل و شرب) (تحفة الاحوذي: ص 63، ج 2)

"ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔"

چنانچہ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(ولان الثلاثة تختص بكونها ايام مني و ايام الرمي و ايام التشريق و يحرم صيامها فهي اخوة في هذه الاحكام فكيف تفترق في جواز الذبح بغير نص ولا اجماع وروي من وجهين مختلفين يشد احدهما الآخر) (زاد المعاد: ص 294، ج 1)

یعنی جب یہ تینوں دن ایام منیٰ، ایام رمی، ایام تشریق (گوشت کوٹنا) کے ساتھ مختص ہیں اور ان دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ پس یہ ایام جب ان احکام میں برابر ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ نص اور اجماع کے بغیر ایام تشریق میں قربانی ذبح کرنے پر قدغن اور پابندی عائد کر دی جائے۔

اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قول کی تائید میں ایسی دو حدیثیں بھی ثابت ہیں، جو ان ایام میں ذبح کے جواز میں قابل استدلال ہیں اور وہ دونوں روایتیں ہم اوپر تحریر کر چکے ہیں۔ ایک تو حضرت جبیر بن مطعم کی اور دوسری اسامه بن زيد عن عطاء عن جابر کی روایت ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کی تائید فرمائی ہے اور اسے راجح قرار دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

ایام معلومات سے مراد ایام معدودات ہیں، اور ایام معدودات یہ ہیں:

(الايام المعدودات ثلاثة ايام بعد يوم النحر وهذا اسناد صحيح) (تفسير ابن كثير: ص 576، سورة الحج)

"ایام معدودات سے مراد عید کا دن اور ایام تشریق مراد ہیں۔"

امام محمد بن علی شوکانی رحمہ اللہ اس مبحث کے آخر میں ان تمام اقوال پر محاکمہ کرنے کے بعد اپنا قول فیصل یوں رقم فرماتے ہیں:

(فهذه خمسة مذاهب ارجحها المذهب الاول للاحاديث المذكورة في الباب وهي يقوي بعضها بعضا) (نيل الاوطار ص 216 ج 5)

کہ ان پانچوں مذاہب میں سے پہلا مذہب کہ قربانی عید کے دن سے لے کر 13 ذی الحجہ تک جائز ہے ازروئے احادیث ارجح اور اثبت ہے اور اس باب میں مذکورہ احادیث قابل استدلال ہیں۔

فیصلہ:۔۔ بہرحال 13 ذی الحجہ کے سورج کے غروب سے پہلے پہلے قربانی ذبح کرنی جائز ہے اور یہ قربانی صحیح اور درست ہو گی، بدعت نہ ہو گی۔ واللہ اعلم

هذا ما عندي والله تعاليٰ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص620

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ