سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(779) اکیلا نمازی قضا شدہ نماز یاد آنے پر نماز جاری رکھے یا توڑ دے؟

  • 24788
  • تاریخ اشاعت : 2018-02-28
  • مشاہدات : 86

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر اکیلے نماز پڑھنے والے کو قضاء نماز یاد آئے تو نماز توڑ کر پہلے قضاء نماز پڑھے یا یہ نماز مکمل کرلے اور قضاء نماز کے بعد اس کا اعادہ نہ کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وسعتِ وقت کی صورت میں نماز توڑ کر پہلے پہلی پڑھے اور تنگی وقت کی صورت میں پہلے موجود پڑھے پھر فوت شدہ۔ جیسے ایک شخص نے عشاء کی نماز پڑھنی ہے، سورج نکلنے کے قریب یاد آیا، ایسی صورت میں پہلے فجر پڑھے پھر عشاء کیونکہ اس کے لیے وقت متعین ہے۔

اسی بناء پر فقہاء نے کہا ہے کہ:’فَإِن خَشِیَ فَوُاتَ الحَاضِرَةِ سَقَطَ التَّرتِیبُ‘ یعنی حاضر نماز کے فوت ہونے کا ڈر ہو تو تریب ساقط ہوجاتی ہے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ حافظ ثناء اللہ مدنی

کتاب الصلوٰۃ:صفحہ:657

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ