سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(77) نماز تہجد میں قرآءت سے متعلق ایک حدیث

  • 22842
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-19
  • مشاہدات : 803

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

’’ایک حدیث میں آیا ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورۂ بقرہ شروع کی۔ میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سو (۱۰۰) آیتوں پر رکوع کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  آگے بڑھ گئے۔ تب میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دو سو (۲۰۰) آیتوں پر رکوع کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  آگے بڑھ گئے، تب میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پوری سورت پڑھیں گے، ایک رکعت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  آگے بڑھ گئے، سورۂ نساء شروع کی، اس کو پڑھا، پھر سورۂ آل عمران شروع کی، اس کو پڑھا اور یہ سب قراء ت آپ کی آہستہ ٹھہر ٹھہر کر تھی۔ جب کوئی آیت   الله کی پاکی کی آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  تسبیح کہتے اور جب کوئی سوال کی آتی تو آپ   الله سے سوال کرتے اور جب کوئی آیت پناہ مانگنے کی آتی تو   الله سے پناہ مانگتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے رکوع کیا تو ’’سبحان ربي العظیم‘‘ کہا کہ رکوع بھی قیام کے برابر تھا، پھر سر اٹھایا ’’سمع   الله لمن حمدہ‘‘ کہا اور یہ قیام رکوع کے قریب قریب تھا، پھر سجدہ کیا ’’سبحان ربي الأعلیٰ‘‘ کہنے لگے تو سجدہ رکوع کے قریب قریب تھا۔‘‘ (نسائي)

دوسری حدیثوں میں اتنا اور زیادہ ہے کہ قعود اور انصراف، یعنی بعد نماز کے بیٹھنا یہ بھی اسی قیام کے برابر تھا تو اس میں دریافت طلب یہ امر ہے کہ جب قیام ایسا ہو کہ جس میں سوا پانچ پارے نہایت اطمینان کے ساتھ پڑھے جائیں، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے تو کم از کم دو گھنٹے یا اور بھی کم رکھا جائے تو ڈیڑھ گھنٹے سے کم نہیں ہوتا اور پھر دوسرے ارکان جو اتنی اتنی دیر میں وہ بھی ادا کیے جاویں تو فی رکن ڈیڑھ گھنٹے کے حساب سے قیام اور رکوع اور قیام بعد الرکوع، جلسہ بین السجدتین اور دوسرا سجدہ اور قعود اور انصراف یہ سب آٹھ ہوتے ہیں، تو فی ڈیڑھ گھنٹے کے حساب سے ۱۲ گھنٹے ہوئے، پس جبکہ بموجب آیت قرآن پاک﴿اِِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ الَّیْلِ وَنِصْفَہٗ وَثُلُثَہٗ﴾ [المزمل: ﴿٢٠] کے نمازِ لیل کا وقت تہائی رات گزر جانے پر شروع ہوتا ہے تو بس دو تہائی رات جو زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹے ہوتی ہے، اس میں بارہ گھنٹے کی ایک رکعت کو کوئی کیونکر ادا کر سکتا ہے اور پھر یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے ایک شب میں صرف ایک ہی رکعت پڑھی ہو، کم از کم دو، زیادہ سے زیادہ تیرہ ہیں، تو جبکہ ایسی نماز پڑھی ہو جس میں ازروئے حساب بارہ گھنٹے ہوتے ہیں اور پھر اور بھی رکعت پڑھی ہوں تو یہ امر کس طرح ممکن ہے؟

المستفتي: سید جواد علی رضوی، محلہ پٹھان، علی گڑھ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے جو حساب لگایا ہے اور اس کی بنا پر جو یہ لکھا ہے کہ دو تہائی رات جو زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹہ ہوتی ہے، اس میں اس بارہ گھنٹے کی ایک رکعت کوئی کیونکر ادا کر سکتا ہے اور پھر کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے ایک شب میں صرف ایک ہی رکعت پڑھی ہو، کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ تیرہ ہیں، تو جب کبھی ایسی نماز پڑھی ہو کہ ازروئے حساب بارہ گھنٹہ ہوتے ہیں اور پھر اور رکعت بھی پڑھی ہوں تو یہ امر کیونکر ممکن ہے؟‘‘ اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ عادۃ   الله جاری ہے، اس کے مطابق ایسا ہی ہوا کرتا ہے، جیسا کہ آپ نے حساب لگایا ہے اور لکھا ہے، لیکن   الله تعالیٰ اس بات پر مجبور نہیں کہ اپنی عادتِ جاریہ کے خلاف کوئی کام نہ کر سکے، بلکہ بسا اوقات بہت سے کام اپنی عادتِ جاریہ کے خلاف بھی کر سکتا ہے۔ الله تعالیٰ نے حضرت آدم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حوا [اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کو اپنی عادتِ جاریہ کے خلاف مرد اور عورت کے اکٹھا ہوئے بغیر پیدا کر دیا، اسی طرح عادۃ   الله یوں جاری ہے کہ مرد عورت جو بوڑھے نہ ہوئے ہوں، ان سے اولاد پیدا ہوتی ہے، لیکن الله تعالیٰ نے حضرت مریم اور حضرت سارہ اور حضرت زکریا کو اور ان کی بی بی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی، اسی طرح عادۃ   الله یوں جاری ہے کہ جب کوئی چیز مسافت بعیدہ سے منگائی جاتی ہے تو اس کے لیے اسی کے مطابق ایک مدت درکار ہوتی ہے، لیکن   الله تعالیٰ نے ملکہ سبا کے تخت کو حضرت سلیمان کے پاس مسافت بعیدہ سے چشم زدن سے بھی پہلے ہی پہنچوا دیا، اسی طرح اور بے شمار واقعاتِ صحیحہ ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ دادو علیہ السلام  پر زبور پڑھ ڈالنا آسان کر دیا گیا تھا، چنانچہ حکم دیتے کہ سواری کَسی جائے اور زبور پڑھنا شروع کر دیتے، پھر قبل اس کے کہ سواری کَسی جائے، پوری زبور ختم کر دیتے۔ (مشکوۃ شریف، ص: ۵۰۰) [1]

فتح الباری جلد تین طبع دہلی میں اس حدیث کی شرح میں ہے: ’’وفي الحدیث أن البرکة قد تقع في الزمن الیسیر حتی یقع فیہ العمل الکثیر‘‘[2] [اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ کبھی برکت تھوڑے سے وقت میں نازل ہوتی ہے، تاکہ اس میں زیادہ عمل کیا جائے] مرقاۃ شرح مشکوۃ (۵/ ۳۴۴) میں ہے:

’’قد دل الحدیث علیٰ أن الله تعالیٰ یطول الزمان لمن یشاء من عبادہ، کما یطوي المکان لھم‘‘

[یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ   الله تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے زمان کو طویل کر دیتا ہے، جس طرح ان کے لیے مکان کو سکیڑ دیتا ہے]                                  

   کتبہ: محمد عبد  الله (۱۴؍ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ)


[1]                صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۲۳۵)

[2]              فتح الباري (۶/ ۴۵۵)

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

مجموعہ فتاویٰ عبداللہ غازی پوری

کتاب الصلاۃ ،صفحہ:178

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ