سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(337) پیدائشی فوت شدہ بچے کا جنازہ

  • 1793
  • تاریخ اشاعت : 2012-08-12
  • مشاہدات : 926

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
پچھلے دنوں میرے چچا زاد کے ہاں بیٹا کی پیدائش ہوئی اور وہ پیدائش کے وقت مردہ پایا گیا یعنی جب بچہ پیدا ہوا تو اسے سانس وغیرہ نہیں آیا لہٰذا اس کی نماز جنازہ پڑھائی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ اسے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پچھلے دنوں میرے چچا زاد کے ہاں بیٹا کی پیدائش ہوئی اور وہ پیدائش کے وقت مردہ پایا گیا یعنی جب بچہ پیدا ہوا تو اسے سانس وغیرہ نہیں آیا لہٰذا اس کی نماز جنازہ پڑھائی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ اسے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ترمذی اور ابوداود کی حدیث کے پیش نظر ایسے بچے کی نماز جنازہ درست ہے البتہ ایسے بچوں پر نماز جنازہ فرض نہیں جیسا کہ دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے ۔ جب ازروئے حدیث ایسے بچے کی نماز جنازہ درست ہے تو اسے قبرستان ہی میں دفن کیا جائے گا کیونکہ جس کا جنازہ پڑھا جا سکے اسے قبرستان میں ہی دفن کیا جاتا ہے۔

«عَنِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ الرَّاکِبُ يَسِيْرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِیْ يَمْشِیْ خَلْفَهَا وَاَمَامَهَا وَعَنْ يَمِيْنِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَرِيْبًا مِّنْهَا وَالسِّقْطُ يُصَلّٰی عَلَيْهِ وَيُدْعٰی لِوَالِدَيهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ» ابوداود (۳۱۸۰) ۳/۲۰۵ احمد (۱۷۷۰۹ ، ۱۷۷۱۶) ۵/۳۰۲،۳۰۴

’’مغیرہ بن شعبہ﷜ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سوار جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل آگے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں اس سے قریب رہ کر چلیں اور ناتمام بچے پر نماز پڑھی جائے اور اس کے ماں باپ کے لیے رحمت اور بخشش کی دعا کی جائے۔‘‘

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

جنازے کے مسائل ج1ص 255

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ