سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(116) تہجد اور سحری کی اذان

  • 1572
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-18
  • مشاہدات : 823

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہماری جماعت کے لوگ بعض جگہ سحری کی اذان کہتے ہیں کئی لوگ اس اذان کو تہجد کی اذان کہتے ہیں کیا یہ اذان تہجد کے لیے دی جاتی ہے یا لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے کہی جاتی تھی کہ ابھی سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے کیونکہ حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک اذان ختم ہوئی تو جلد ہی دوسری اذان ہوتی تھی ہمارے ہاں تو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ سحری کی اذان پہلے کہی جاتی ہے اور پھر صبح کی اذان ہوتی ہے ۔ وضاحت فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہماری جماعت کے لوگ بعض جگہ سحری کی اذان کہتے ہیں کئی لوگ اس اذان کو تہجد کی اذان کہتے ہیں کیا یہ اذان تہجد کے لیے دی جاتی ہے یا لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے کہی جاتی تھی کہ ابھی سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے کیونکہ حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک اذان ختم ہوئی تو جلد ہی دوسری اذان ہوتی تھی ہمارے ہاں تو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ سحری کی اذان پہلے کہی جاتی ہے اور پھر صبح کی اذان ہوتی ہے ۔ وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

فجر سے پہلے جو اذان کہی جاتی ہے اس کا نام کوئی تو سحری کی اذان رکھ لیتا ہے اور کوئی تہجد کی اذان جہاں تک مجھے معلوم ہے حدیث شریف میں اس کا کوئی خاص نام وارد نہیں ہوا البتہ صحیحین اور دیگر کتب حدیث میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا : بلال﷜ رات کو اذان کہتا ہے الخ پھر اس اذان کی غرض بیان کرتے ہوئے رسول اللہﷺ نے فرمایا : تاکہ وہ تمہارے سونے والے کو جگائے اور تمہارے قیام کرنے والے کو لوٹائے …(صحیح بخاری۔ الاذان۔ باب الأذان قبل الفجر)الخ ۔

صحیحین اور دیگر کتب حدیث میں موجود عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک مؤذن کے اترنے اور دوسرے کے چڑھنے والی بات کا وہ مقصود نہیں جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں آپﷺ کا بیان ہے بلال رات کو اذان کہتا ہے پس تم کھائو اور پیو حتی کہ ابن ام مکتوم اذان کہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابن ام مکتوم نابینے تھے اذان نہ کہتے جہاں تک کہ ان سے کہا جاتا آپ نے صبح کر دی آپ نے صبح کر دی۔

تو رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان اور عبداللہ بن عمر﷜کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں اذانوں کے درمیان اترنے چڑھنے کے وقت سے زیادہ وقفہ ہوتا تھا باقی اس وقفے کی تحدید منٹوں میں کہیں نہیں آئی ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نماز کا بیان ج1ص 115

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ