سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(51)وراثت میں لڑکی کا حصہ، مضاربت اور متوفی کا قرض ادا کرنا

  • 15308
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-13
  • مشاہدات : 405

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لمائے دین و مفتیان شرع متین کی خدمت میں گزارش ہے کہ سوالات ذیل کے جوابات از روئے شرع شریف مدلل بیان فرما کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر جزیل و ثواب جمیل حاصل کریں۔

سوالات یہ ہیں:

۱۔ جب سرکار انگریزی نے پنجاب میں دخل کیا تو ایک شہر کے مسلمانوں سے بروقت بندوبست قاعدہ رواج عام کے یہ دریافت کیا کہ تم لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر اس کی جائداد منقولہ و غیر منقولہ یعنی اس کا ترکہ شرع محمدی کے موافق وارثوں میں تقسیم کرانا منظور کرتے ہو یا کہ ہندو رواج کے موافق، تاکہ اس کے موافق قانون پاس ہو کر عدالتوں میں فیصلہ ہوا کرے اور یہ قاعدہ مقرر کرنے کے بعد کوئی وارث کبھی اس کے برخلاف حصہ لینے کا عدالت میں اگر دعویٰ کرے تو نہ سنا جائے گا۔ اس پر مسلمانوں نے متفق ہو کر لکھوا دیا کہ ہم کو اپنے مرنے کے بعد جائداد منقولہ و غیر منقولہ یعنی ترکہ کا وارثوں میں تقسیم کرانا مطابق رواج قدیم کے منظور ہے۔ یعنی ہمارے مرنے کے بعد دختر کا کچھ حصہ نہیں ہوگا اور زوجہ اگر نکاح ثانی نہ کرے تو اپنی حین حیات تک اپنے خاوند متوفی کے مال سے صرف خوراک اور پوشاک کی مستحق ہے اور اگر نکاح ثانی کرے تو ایک پیسے کے ملنے کی بھی مستحق نہیں۔

اس پر سرکار انگریزی نے ان کے لکھوانے کے مطابق قانون پاس کرکے عدالتوں میں قائم کردیا کہ یہاں کے مسلمانوں میں سے کسی کے مرنے پر اس کے ترکہ کا لرکی (دختر) یا زوجہ اگر کچھ دعویٰ کرے گی تو منسوخ ہوگا۔

عرصہ تخمیناً پچپن (۵۵) سال کا ہوا کہ گورنمنٹ نے مرتبہ اول دریافت کرکے یہ قانون پاس کیا تھا۔ پھر جدید بندوبست یعنی اس اول مرتبہ کے دریافت سے بیس (۲۰) برس بعد پھر گورنمنٹ نے تقسیم وراثت کے متعلق اسی طرح سے دریافت کیا، جیسا کہ سابق بندوبست میں دریافت کیا تھا۔ اس پر بھی سب نے متفق ہو کر لکھوا دیا کہ رواج سابق منظور ہے۔ پھر بار سوم بعد بیس (۲۰) سال کے گورنمنٹ نے جدید بندوبست کے وقت بھی مثل سابق وراثت کے متعلق دریافت کیا تو بھی سب نے متفق ہو کر یہی لکھوایا کہ رواج سابق منظور ہے۔ یعنی ترکہ سے لڑکی کا کچھ حصہ نہ ہوگا اور زوجہ اگر نکاح ثانی نہ کرے تو تاحین حیات خاوند متوفی کے مال سے صرف خوراک و پوشاک کی مستحق ہے۔ اگر نکاح ثانی کرے تو ایک پیسہ کے لینے کی بھی مستحق نہ ہوگی۔ گو اس درمیان میں علمائے دین نے کئی مرتبہ از حد فہمائش کی اور بار بار وعظوں میں بیان کردیا کہ مذکورہ بالا رواج بالکل خلاف قرآن مجید ہے اور ہندو کفار کے مطابق ہے۔ اس پر عمل کرنے سے سخت وعید و عذاب کا موجب ہے، مگر کسی نے ان کی سماعت نہ کی اور کچھ پروانہ کی۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ جو مذکورۂ بالا رواج پر برابر عمل کر رہے ہیں اور سمجھانے سے بھی باز نہیں آتے، شرعاً ان پر کیا حکم ہے اور ایسے لوگ ان آیتوں کلام اللہ اور حدیث رسول اللہﷺ کے جو ذیل میں درج ہیں مصداق ہیں یا نہیں؟ حالانکہ ان لوگوں میں سے بہت لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، روزہ بھی رکھتے ہیں، حج اور زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں اور موافق وراثت تقسیم نہ کرنے کو گناہ ہونے کا عوام الناس کے سامنے زبان سے اقرار کرتے ہیں، مگر حکام کے دریافت کرنے پر اسی بات کو لکھواتے ہیں کہ ہم کو وہی رواج سابق منظور ہے، یعنی ترکہ میں سے لڑکی کا کچھ حصہ نہیں اور زوجہ اگر نکاح ثانی کرے تو اس کا بھی کچھ حصہ نہیں اور مدت دراز سے اسی پر عمل درآمد ہے اور شرع کے موافق ترکہ کی تقسیم ایسی گم ہوئی ہے کہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ لڑکی یا زوجہ کا کچھ حصہ ہوتا ہے یا نہیں۔

آیات یہ ہیں:

۱۔ ﴿ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّھِیْن ﴾ (النساء: ۱۴)

‘‘ اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ کی اور رسول اس کے کی اور گزر جاویں حدوں اس کی سے۔ داخل کرے گا اس کو آگ میں ہمیشہ رہنے والے بیچ اس کے اور واسطے ہے اس کے عذاب ذلیل کرنے والا۔’’

۲۔ ﴿ اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَھُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ بِہٖ اللہُ﴾(الشوری: ۲۱)

‘‘ کیا واسطے ان کے شریک ہیں مقرر کیا ہے واسطے ان کے دین میں سے جو کچھ کہ نہیں اذن دیا ہے واسطے اس کے اللہ نے۔’’

۳۔ ﴿ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَرِھُوا مَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ ﴾ (محمد:۹)

‘‘ بسبب اس کے ہے کہ مکروہ رکھا تھا انھوں نے اس چیز کو کہ نازل کیا ہے اللہ نے، پس کھودے عمل ان کے۔’’

۴۔ ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا ﴾ (النساء: ۱۰)

‘‘ تحقیق وہ لوگ جو کھاتے ہیں مال یتیموں کے ظلم سے سوا اس کے نہیں کہ کھاتے بیچ پیٹوں اپنے کے آگ اور البتہ جائیں گے آگ میں۔’’

۵۔ ﴿ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا اَوَ لَوْکَانَ اٰبَآوُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَھْتَدُوْنَ  ﴾ (البقرۃ: ۱۷۰)

‘‘ اور جب کہا جاتا ہے واسطے ان کے پیروی کرو اس چیز کی کہ اتارا اللہ نے، کہتے ہیں بلکہ پیروی کریں گے ہم اس چیز کی کہ پایا ہم نے اوپر اس کے باپوں اپنے کو۔’’

۶۔ ﴿  اَفَحُکْمَ الْجاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ﴾ (المائدۃ: ۵۰)

‘‘ (اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے۔’’

۷۔ ﴿ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا  ﴾ (النساء: ۶۱)

‘‘ اور جب کہا جاتا ہے واسطے ان کے آؤ طرف اس چیز کے کہ اتارا ہے اللہ نے اور طرف رسولﷺ کے دیکھتا ہے تو منافقوں کو کہ ہٹ رہتے ہیں تجھ سے ہٹ رہنے کر۔’’

۸۔ ﴿ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَیُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًا بَعِیْدًا﴾(النساء: ۶۰)

‘‘ کیا نہ دیکھا تو نے طرف ان لوگوں کے کہ دعوی کرتے ہیں یہ کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس چیز کے کہ اتاری گئی ہے طرف تیرے اور جو کچھ کہ اتاری گئی پہلے تجھ سے۔ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ حکم پہنچا دیں طرف سرکشوں کے اور تحقیق حکم کیے گئے ہیں یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کرے ان کو گمراہی دور کی۔’’

احادیث یہ ہیں:

۱۔ ‘‘ عن أبي ھریرة عن رسول اللہ ﷺ قال : إن الرجل لیعمل والمرأة بطاعة اللہ ستین سنة ثم یحضرھما الموت فیضاران في وصیتھما فیجب لھما النار۔ ثم قرأ أبوھریرة ﴿مِنْ بَعْدِ وصَیَّۃٍ یُّوْصٰی بِھَا اَوْ دَیْنِ غَیْرَ مُضَآرٍ ﴾ إلی قولہ تعالی: ﴿وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم﴾ رواہ أحمد والترمذي وأبوداود وابن ماجه (مشکوةباب الوصایا فصل ثاني) (مسند أحمد (۲/ ۲۷۸) سنن الترمذي (۲۱۱۷) سنن أبي داود (۲۸۲۸) سنن ابن ماجه ، ۲۷۰۴)

‘‘ روایت ہے ابوہریرہ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تحقیق مرد البتہ عمل کرتا ہے اور عورت ساتھ بندگی اللہ ساٹھ برس پرانی ہے۔ ان دونوں کو موت آتی ہے تو ضرر پہنچاتے ہیں وصیت کرنے میں۔ پس واجب ہوتی ہے ان کے لیے دوزخ۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿مِنْ بَعْدِ وصَیَّة یُّوْصٰی بِھَا اَوْ دَیْنِ غَیْرَ مُضَآرٍ ﴾ اور ﴿وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم﴾تک آیت پڑھی۔ اس کے بعد جو کی جائے یا قرض (کے بعد) اس طرح کہ کسی کا نقصان نہ کیا گیا ہو، اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا نہایت بردبار ہے، یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اسے احمد ، ترمذی، ابوداود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ (مشکوۃ باب الوصایا فصل ثانی)

۲۔ ‘‘ عن أنس قال قال رسول اللہ ﷺ : من قطع میراث وارثه قطع اللہ میراثه من الجنة یوم القیامة’’ رواہ ابن ماجه، والیبھقي في شعب الإیمان، عن أبي ھریرة۔ (مشکوٰۃ باب الوصایا فصل الثالث)، ( سنن ابن ماجه ، رقم الحدیث (۲۷۰۳) اس کی سند میں ‘‘ زید العمی’’ اور اس کا بیٹا ‘‘ عبدالرحیم’’ دونوں ضعیف ہیں، بلکہ عبدالرحیم کو تو کذاب تک کہا گیا ہے۔)

‘‘ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کسی نے وارث کی میراث کو کاٹ دیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث سے کچھ حصہ کاٹ دے گا۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔’’ (مشکوٰۃ باب الوصایا فصل الثالث)

۳۔ ‘‘ عن أبي ھریرة رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہﷺ : إن الرجل لیعمل عمل أھل الخیر سبعین سنة فإذا أوصی جاف في وصیته فیختم له بشر عمله فیدخل النار وإن الرجل لیعمل عمل أھل الشر سبعین سنة فیعدل في وصیته فیختم له بخیر عمله فیدخل الجنة، ثم یقول أبوھریرة: إقر أوا إن شئتم: ﴿ تِلْکَ حَدُوْدُ اللہِ …﴾ إلی قولہ: ﴿عَذَابٌ مُّھِیْن ﴾ ’’ رواہ ابن ماجه۔ (سنن ابن ماجه، رقم الحدیث: ۲۷۰۴)

‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایک شخص ستر سال تک نیک لوگوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے، لیکن آخر میں جب وہ وصیت کرتا ہے تو وصیت میں ظلم سے کام لیتا ہے، چنانچہ اس کے اس برے عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ جہنم رسید ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ستر سال تک برے لوگوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے لیکن آخر میں اپنی وصیت میں عدل سے کام لیتا ہے تو اس کے اس نیک عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے اور یہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ حدیث کے راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اگر تم (اس کی تصدیق) چاہو تو یہ فرمانِ باری تعالیٰ پڑھ لو: ﴿تِلْکَ حَدُوْدُ اللہِ … عَذَابٌ مُّھِیْن ﴾(النساء: ۱۴) اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔’’

سوال ۲: اگر مذکورہ بالا شرع کے موافق ورثہ نہ تقسیم کرنے والے لوگ مندرجہ بالا آیات اور احادیث کے مصداق ہوں تو جو لوگ دوسرے مسلمان شرع محمدی کے موافق ورثہ کو تقسیم کرتے ہوں، ان لوگوں سے راہ رسم اتحاد و محبت الفت رشتہ ناتہ شادی غمی میں شریک ہوں تو ایسے لوگ اس آیت کے مصداق ہیں یا نہیں:

﴿ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَرَُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبَآءَ ھُمْ اَوْ اَبْنَآءَ ھُمْ اَوْ اِخْوَانَھُمْ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ ﴾ (المجادلة: ۲۲)

‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے، گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ کے ہی کیوں نہ ہوں۔’’

سوال ۳: قرآن شریف میں وراثت تقسیم کرنے کا حکم اور اپنی حقیقی بہن سے بیاہ نہ کرنے کا حکم ایک ہی سورہ میں ہے۔ یعنی اپنی ہمشیرہ حقیقی کو باپ کی جائداد یعنی ترکہ سے ورثہ نہ دینے والا اور اپنی ہمشیرہ حقیقی سے بیاہ کرنے والا قرآن شریف کے نافرمان ہونے میں برابر ہیں یا نہیں؟ حالانکہ جس طرح اپنی حقیقی ہمشیرہ کو باپ کے ترکہ میں سے حصہ وراثت کا نہ دینے والا اس کو حرام سمجھتا ہے، اسی طرح سے اپنی حقیقی ہمشیرہ سے بیاہ کرنے کو بھی حرام جانتا ہے۔

سوال ۴: زید ک ایک لڑکا عمر ہے۔ بالغ ہونے پر اپنے  باپ کے ساتھ دوکانداری تجارت زراعت وغیرہ کے کام میں اپنے باپ کے برابر یا کچھ کم و بیش کام کرتا ہے۔ اگر باپ زید اپنے بیٹے عمر کا اس کی کارگزاری کے موافق کچھ حصہ مقرر کردے اور اس کا خرچ اس کے ذمہ کردے تو جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

سوال ۵: جن جن لوگوں کی نسبت سرکار انگریزی کے کاغذات میں ان کے ترکہ کی تقسیم خلاف شرع شریف اور رواج کے موافق مدت دراز سے انھیں کے لکھوانے کے مطابق قانون پاس ہوگیا ہے اور سرکار انگریزی نے وصیت نامہ کے متعلق صرف سادہ کاغذ پر بلا اسٹامپ کے داخل کرنا منظور کیا ہوا ہے کہ جس شخص کو اپنے ترکہ کی نسبت وصیت کرنا منظور ہو وہ محض سادہ کاغذ بلا اسٹامپ پر اپنا وصیت نامہ داخل کرے تو منظور ہوگا۔ سو جس شخص کو شرع کے موافق ترکہ تقسیم کرنا منظور ہو، اس کے لیے ایسی آسان ترکیب کے ہوتے ہوئے بھی اگر ترکہ شرع کے موافق تقسیم کرنے کی وصیت سرکار انگریزی میں نہ لکھائے اور عوام الناس کے سامنے صرف زبانی کہے کہ ہم کو شرع کے موافق ترکہ تقسیم کرنا منظور ہے۔ لیکن ان کے صرف اس زبانی اقرار سے جو ان کی طرف سے سرکاری کاغذات میں تحریری اکار کے ہوتے ہوئے ان کے مرنے کے بعد ان کا کوئی وارث اپنا شرعی حصہ میں لے سکتا، جب تک کہ یہ خود اپنی زندگی میں سرکاری کاغذات میں اپنے ترکہ کی تقسیم شرع کے موافق وصیت نہ لکھائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ وصیت نامہ شرع کے موافق ترکہ تقسیم کرنے کا سرکار میں نہ لکھا دیں اور فوت ہو جائیں تو جس جس وارث کو اس کا شرعی حصہ نہیں ملے گا اور وہ اس سرکاری تحریر کے وجہ سے بے بس ہو کر اپنے حصہ سے محروم ہو جائے گا۔ اس کا وبال ان لوگوں کی گردنوں پر ہوگا یا نہیں؟

سوال ۶: اگر متوفی نے اپنے ترکہ سے قرض زیادہ چھوڑا یا بالکل قرض ہی چھوڑا اور ترکہ بالکل نہیں چھوڑا تو اس حالت میں متوفی کے ورثا جس طرح ورثہ لینے کے شرعاً مستحق ہیں، اسی طرح متوفی کا قرض ادا کرنا بھی ان کے ذمہ ہے یا نہیں۔ اور بحالت نہ ہونے اس کے ترکہ کے قرض خواہ متوفی کے ورثا سے از روئے شریعت دعوی کرکے اپنا قرض وصول کرسکتا ہے یا نہیں۔ قرآن شریف اور احادیث نبویہ صحیحہ اور عمل درآمد خیر القرون سے اس کا مدلل جواب دیا جائے۔ اور بعض ورثاء مفلس محتاج نادار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے مورث متوفی کے قرض ادا کرنے کی طاقت و وسعت نہیں رکھتے۔

جوابات از بندہ ضعیف ابو الطیب محمد شمس الحق عظیم آبادی

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جوابات از بندہ ضعیف ابو الطیب محمد شمس الحق عظیم آبادی

جواب ۱: ﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ﴾ (یوسف: ۴۰)

‘‘ فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے۔’’

مسائل میراث کو اللہ جل شانہ نے سورہ نساء میں بہت بسط و وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے اور چونکہ کفار و مشرکینِ مکہ لڑکیوں کو میراث سے محروم کردیتے تھے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورہ نساء کے آغاز ہی میں پہلے اپنی قدرت واسعہ کو جتا کر ڈرایا ہے، پھر نہایت واضح اور روشن دلیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ یہ فعل و رواج ، جو مشرکین کا معمول بہ ہے، سخت ظلم اور عقلاً مذموم ہے۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

﴿ یٰٓایُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَآءً وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا﴾ (النساء: ۱)

‘‘ اے لوگو! ڈرو پروردگار اپنے سے جس نے پیدا کیا تم کو جان ایک سے اور پیدا کیا اس سے جوڑا اس کا اور پھیلائے ان دونوں سے مرد بہت اور عورتیں اور ڈرو اللہ سے جس کے نام سے مانگتے ہو آپس میں اور ڈرو قرابت سے تحقیق اللہ ہے اوپر تمہارے نگہبان۔’’

اب جاننا چاہیے کہ لڑکیوں کا اور زوجات کا ترکہ فرض ہے۔ جس طرح سے لڑکوں اور شوہروں کا ترکہ فرض ہے، کسی وقت کسی حال میں یہ لوگ محروم نہیں ہوسکتے ہیں۔ ان سب کا حصہ قرآنِ مجید میں مقرر کیا ہوا اور فرض کیا ہوا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ :

﴿ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا ﴾ (النساء: ۷)

‘‘ واسطے مردوں کے حصہ ہے اس چیز سے کہ چھوڑ گئے ہیں ماں باپ اور قرابتی اور واسطے عورتوں کے حصہ ہے اس چیز سے کہ چھوڑ گئے ہیں ماں باپ اور قرابتی۔ تھوڑا ہو اس میں سے یا بہت ہو، حصہ ہے مقرر کیا ہوا۔’’

اس کے بعد ہر شخص کے حصہ کی تفصیل فرمائی۔ چنانچہ لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

﴿ یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَھَا النِّصْفُ … ﴾ (النساء: ۱۱)

‘‘ وصیت کرتا ہے تم کو اللہ بیچ اولاد تمہاری کے واسطے مرد کے ہے مانند حصہ دو عورتوں کے۔ پس اگر ہویں عورتیں زیادہ دو سے، پس واسطے ان کے دو تہائی اس چیز کی جو چھوڑ گیا اور اگر ہو ایک ہی پس واسطے اس کے ہے آدھا۔’’

پھر اس آیہ کریمہ کے آخر میں فرمایا:

﴿ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللہِ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا  ﴾ (النساء: ۱۱)

‘‘ مقرر کیا ہوا ہے اللہ کی طرف سے۔ تحقیق اللہ ہے جاننے والا حکمت والا۔’’

اس کے بعد ازواج اور زوجات کا حصہ بیان فرمایا:

﴿ وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّھُنَّ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَھُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِھَآ اَوْ دَیْنٍ وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَیْنٍ وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ وَّلَہٗ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا السُّدُسُ فَاِنْ کَانُوْا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَھُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوصٰی بِھَآ اَوْ دَیْنٍ﴾ (النساء:۱۲)

‘‘ اور واسطے تمہارے ہے آدھا اس چیز کا کہ چھوڑ گئی ہیں بیبیاں تمہاری اگر نہ ہو واسطے ان کے اولاد، پس اگر ہو واسطے ان کے اولاد پس واسطے تمہارے چوتھائی اس چیز سے کہ چھوڑ گئی ہیں پیچھے وصیت کے کہ وصیت کر جاویں ساتھ اس کے یا قرض کے اور واسطے ان کے ہے چوتھائی اس چیز کی کہ چھوڑ جاؤ تم اگر نہ ہو واسطے تمہارے اولاد پس اگر ہو واسطے تمہارے اولاد پس واسطے ان کے آٹھواں حصہ ہے اس چیز کا کہ چھوڑ جاؤ تم پیچھے وصیت کے کہ وصیت کر جاؤ تو تم ساتھ اس کے یا قرض کے۔’’

ان سب کا حصہ بیان فرمانے کے بعد قطعی طور پر ارشاد فرمایا:

﴿  تِلْکَ حُدُوْدُ اللہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴾ (النساء: ۱۳)

‘‘ یہ ہیں حدیں اللہ کی اور جو کوئی کہا مانے اللہ کا اور رسول اس کے کا۔ داخل کرے گا اس کو بہشتوں میں چلتی ہیں نیچے ان کے سے نہریں ہمیشہ رہنے والے بیچ اس کے اور یہ ہے مراد پانا بڑا۔’’

﴿  وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ ﴾ (النساء: ۱۴)

‘‘ اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ کی اور رسول اس کے کی اور گزر جاویں حدوں اس کی سے، داخل کرے گا اس کو آگ میں ہمیشہ رہنے والے بیچ اس کے اور واسطے ہے اس کے عذاب ذلیل کرنے والا۔’’

یہاں پر قرآن شریف کا لطافتِ بیان بھی قابل غور ہے کہ چونکہ عام طرح پر کفار و مشرکینِ مکہ عورتوں کو میراث سے محروم سمجھتے تھے اور یہ باطل خیال ان کے دماغ میں پیوستہ تھا، اس لیے پہلے اللہ جل شانہ نے اپنے قادر مطلق ہونے کا بیان فرمایا کہ ایسی قدرت واسعہ والے کا حکم بغیر قبول کیے ہوئے چارہ نہیں ہے۔ اس کے بعد نہایت خوبی اور لطافت کے ساتھ لوگوں کے دماغ کو اس باطل خیال سے اس طرف متوجہ فرمایا کہ جب ہر مرد و عورت کی اصل خلقت ایک نفس سے ہے تو فطرت سلیمہ اور عدل و انصاف کے نزدیک کیوں کر یہ قابل تسلیم ہوسکتا ہے کہ اس کی ایک جزو ذکور کو مستحق میراث قرار دیا جاوے اور دوسرا جزو یعنی اناث بالکل محروم کردیا جائے۔ اس کے بعد اجمالی طور پر حکم صادر فرمایا کہ جس طرح میراث میں ذکور مستحق ہیں، اسی طرح سے عورتیں بھی مستحق ہیں۔ پھر اس اجمال کی تفصیل فرمائی اور ہر ہر شخص ذکور و اناث کے حصے مقرر فرما دیے۔ اس کے بعد آخر میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر فرمایا ہوا ہے۔ جو اس ذات پاک اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا اور حد سے تجاوز نہ کرے گا اس کو ثواب ملے گا اور جو نافرمانی کرکے حد سے گزر جائے گا، اس کو جہنم میں ڈالے گا اور ہمیشہ اس میں رہے گا اور ذلت اور رسوائی اور تکلیفیں جھیلے گا۔

پس ہر شخص جو اللہ پر اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو، اس مبسوط بیان کو غور سے دیکھے اور سمجھے اور اس پر عمل کرکے مستحق اجر و ثواب بنے اور ناحق بیٹوں اور بیٹیوں کا حق ظلم اور غصب سے ہرگز تلف نہ کرے، کیونکہ قیامت کے روز اس کو احکم الحاکمین کے رو برو حاضر ہونا ہے، جہاں ذرہ ذرہ کا حساب دینا ہوگا اور چھوٹے سے چھوٹے ظلم کا بھی بدلہ دیا جائے گا۔ چہ جائیکہ یہ تو بہت بڑا ظلم اور حق تلفی ہے اور جو شخص ایسا کرے وہ آیات و احادیث مرقومہ سوال ہذا میں بلاشک و شبہ داخل ہے اور ان آیات و احادیث کے علاوہ اس باب میں اور احادیث بھی وعید کی وارد ہیں۔

‘‘ عن ابن عمر عن النبىﷺ : من أخذ من الأرض شیئا بغیر حقه خسف به یوم القیامة إلی سبع أرضین’’ رواہ البخاري۔ ( صحیح البخاري، رقم الحدیث: ۲۳۲۲)

‘‘ روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ نقل کرتے ہیں نبیﷺ سے کہ جس شخص نے لیا زمین میں سے کچھ بغیر حق اپنے کے دھنسایا جائے گا ساتھ اس کے دن قیامت کے ساتوں زمین تک۔ روایت کیا اس کو بخاری نے۔’’

‘‘ وعن لیلی بن مرة عن النبىﷺ : من أخذ من الأرض شیئا ظلما جاء یوم القیامة یحمل ترابھا إلی المحشر’’ رواہ أحمد بن حنبل في مسندہ۔ ( مسند أحمد ، ۴/ ۱۷۲، ۱۷۳)

‘‘ اور روایت ہے لیلیٰ بن مرہ سے وہ نقل کرتے ہیں نبیﷺ سے کہ جس شخص نے لیا زمین سے کچھ ظلم سے آئے گا دن قیامت کے اٹھائی ہوئی مٹی اس زمین کی طرف میدان قیامت کے۔ روایت کیا اس کو احمد بن حنبل نے اپنے مسند میں۔’’  

‘‘ وعن ابن عباس عن النبىﷺ قال : الإضرار في الوصیة من الکبائر، ثم قرأ: تلک حدود اللہ’’ رواہ النسائي۔ ( سنن النسائي الکبیر، ۶/ ۳۲۰)

‘‘ روایت ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ روایت کرتے ہیں نبیﷺ سے کہ فرمایا آپ نے نقصان پہنچانا بیچ وصیت کے کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ پھر پڑھی آپﷺ نے یہ آیت: یہ حدیں اللہ کی ہیں۔ روایت کیا اس کو نسائی نے۔’’

جواب ۲: جو مسلمانان کہ اللہ کے فرماں بردار ہیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی محافظت کرتے ہیں اور میراث کو موافق شرع محمدی کے تقسیم کرتے ہیں، ان لوگوں کو لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان بندوں جو اس کے حکم پر عمل نہیں کرتے ہیں، ان کو فہمائش و نصیحت کریں اور نہ مانیں تو ان سے کنارہ کشی اختیار کریں۔ قال اللہ تعالی:

﴿ لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبَآءَ ھُمْ اَوْ اَبْنَآءَ ھُمْ اَوْ اِخْوَانَھُمْ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ ﴾ (المجادلة: ۲۲)

‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے، گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔’’

جواب ۳: اس میں شک نہیں کہ حقیقی بہن سے بیاہ کرنا بھی حرام اور بہنوں اور بیٹیوں کو ترکہ سے محروم کرنا بھی حرام ہے اور ایک ہی سورۃ میں دونوں باتیں مذکور ہیں۔ پس اس آیت کریمہ سے عبرت پکڑنا چاہیے، ان لوگوں کو جو بہنوں اور بیٹیوں کو ترکہ سے محروم کرتے ہیں۔

جواب۴: مضاربت (کسی تجارت میں دو شخص اس طرح پر شریک ہوں کہ ایک آدمی کا مال ہو، دوسرے کی صرف محنت ہو۔ اور اس محنت کے عوض میں صرف نفع میں ربع یا ثلث یا نصف یا جو طے ہو جائے، اس کا شریک ہو اور رأس المال و بقیہ منفعت صاحب مال کا ہوگا) اور استجارہ (یعنی کسی شخص کو اپنی تجارت یا کسی اور کام پو یومیہ یا ماہ بہ ماہ جس طرح پر طے ہو جائے اس طرح پر نوکر رکھنا) شرعاً جائز ہے۔ پس صورت مسئولہ میں زید کا اپنے بیٹے کے لیے موافق اس کی کارگزاری کے حصہ مقرر کردینا عام ازیں کہ علی سبیل المضاربت ہو یا علی سبیل الاستجارہ ہو، شرعاً لا خلاف جائز ہے۔

جواب ۵: اس کی تفصیل جواب سوال اول میں گزر چکی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے مال کو اس کے مستحقین پر مطابق شریعت کے تقسیم نہ کرے، تاکہ اس کے بعد مطابق رسم کفار کے ترکہ تقسیم کیا جاوے تو اس کا وبال اور ورثہ کی حق تلفی کا مواخذہ ضرور اس مورث کی گردن پر ہوگا۔

جواب ۶: ادائے دین متوفی کے متروکہ میں سے ضرور ہے۔ اسی واسطے اللہ جل شانہ نے تقسیم میراث کے ساتھ ہی ہر جگہ یہی ارشاد فرمایا ہے کہ یہ تقسیم ادائے دین اور وصیت کے بعد ہونی چاہیے:

﴿  مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِھَآ اَوْ دَیْنٍ ﴾ (النساء: ۱۲)
‘‘ وعن أبي سعید قال : أصیب رجل علی عھد رسول اللہ ﷺ في ثمار ابتاعھا فکثر دینه، فقال : تصدقوا علیه فتصدق الناس علیه، فلم یبلغ ذلک وفاء دینه فقال رسول اللہﷺ لغرمائه: خذوا ما وجدتم، ولیس لکم إلا ذلک’’ رواہ الجماعة إلا البخاري۔

‘‘ روایت ہے ابی سعید سے کہ کہا پہنچایا گیا نقصان ایک شخص بیچ زمانے رسول اللہﷺ کے بیچ میوے کے خریدا تھا اس کو۔ پس بہت ہوگیا قرض اس پر۔ پس فرمایا آپﷺ نے لوگوں کو صدقہ کرو اس پر۔ پس صدقہ دیا لوگوں نے اس کو ۔ پس نہ پہنچا وہ صدقہ موافق قرض اس کے ۔ پس فرمایا رسول اللہﷺ نے واسطے قرض خواہوں اس کے کہ لے لو جو پاؤ تم اور نہیں واسطے تمہارے مگر یہ۔ روایت کیا اس کو جماعت نے سوائے بخاری کے۔’’ (مشکوٰۃ باب الإفلاس والإنظار، ف۱)

حررہ العبد الضعیف أبو الطیب محمد شمس الحق العظیم آبادي عفی عنہ

محمد شمس الحق أبو الطیب

محمد أشرف عفی عنہ العظیم آبادی

محمد أحمد عفی عنہ اعظم گڑھی

أبو عبداللہ محمد إدریس العظیم آبادي ۱۳۱۱

محمد أیوب عبد الفتاح العظیم آبادي ۱۳۱۹ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 271

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ