سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(321) دوطلاقوں کے بعد رجوع كرنا

  • 14432
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-18
  • مشاہدات : 528

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتےہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین کہ مین محمد انور ولد شیخ غلام رسول ساکن بلال کالونی داروغہ والا گلی نمبر 22 مکان نمبر 24 اپنی بیوی عابدہ بیگم دختر شیخ معراج دین کو گھریلو جھگڑے کی وجہ سے مورخہ 92۔5۔17 کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں ہیں ۔ اس سے پہلے اپنی بیوی کو کبھی کوئی تحریری یا زبانی کلامی کوئی طلاق نہیں دی ۔اب میں اور میری بیوی اپنا گھر آباد رکھنا چاہتے ہیں قرآن وحدیث کےمطابق کیا ہم اپنا گھر آباد رکھ سکتےہیں ؟ شرعی فتویٰ صادرفرما یا جائے  (سائل : محمد انور ولد شیخ غلام رسول بلال کالونی گلی نمبر 22 مکان نمبر 4 داروغہ والا لاہور )

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بشرط صحت سوال ،صورت مسؤلہ میں واضح ہو کہ اگر واقعی طلاق دہندہ کی اپنی اس بیوی کی یہ پہلی طلاق ہے تو یہ ایک رجعی طلاق شرعا واقع ہوئی اور رجعی طلاق میں عدت کے اندر نکاح بحال اور رجوع شرعا جائز ہوتا ہے ۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے ۔(الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ)(البقرۃ:229) کہ (رجعی )طلاق دو مرتبہ ہےپھر یا خوش اسلوبی کےساتھ بیوی کو روک لینا ہےیا پھر شائستگی کےساتھ اس کو چھوڑ دینا ہے ۔،،

حضرت امام ابن کثیر ﷫ اپنی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر کرتےہوئے لکھتے ہیں :

فَوَقَّتَ الطَّلَاقَ ثَلَاثًا لَا رَجْعَةَ فِيهِ بَعْدَ الثَّالِثَةِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ و قَوْلُهُ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ أَيْ إِذَا طَلَّقْتَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ، فَأَنْتَ مُخَيَّرٌ فِيهَا مَا دَامَتْ عِدَّتُهَا بَاقِيَةً بَيْنَ أَنْ تَرُدَّهَا إِلَيْكَ نَاوِيًا الْإِصْلَاحَ بِهَا وَالْإِحْسَانَ إِلَيْهَا، وَبَيْنَ أَنْ تَتْرُكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَتَبِينَ مِنْكَ. (تفسیر ابن کثیر :ج1 ص292۔طبع کویت.)

کہ جب کوئی  شخص اپنی بیوی کو دوطلاقیں دے چکنے کےبعد تیسری طلاق بھی دے دے تو جب تک وہ عورت کسی دوسرے مرد نکاح نہ کرے پہلے پر حلال نہ ہوگی ۔ اور فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ  کامطلب یہ ہے کہ جب تو ایک طلاق دے یا دو طلاقیں دے دے تو تجھ کو عدت کےاندر یہ اختیار حاصل ہےکہ اصلاح کی نیت اور بیوی کےساتھ نیک سلوک کی خاطر اس سےرجوع کرکے اسکو اپنے ہاں آپاد رکھ سکتاہے اور اس کو چھوڑ دینے کا بھی اختیار تجھے حاصل ہے ۔

قرآن مجید کی اس واضح اور کھلی نص سے ثابت ہوا کہ دوطلاقوں کے بعد عدت کے اندر شرعا رجوع جائز ہے کہ عدت کے اندر (تین حیض ماہ وغیرہ ) نکاح سابق بحال اور قائم رہتاہے ،لہذا طلاق دہندہ مسمی محمد انوار ولد شیخ غلام رسول اپنی بیوی مسمات عابدہ بیگم سےرجوع کر کے اپنا گھر آبادرکھ سکتا ہے۔ اس مسئلہ میں اہل حدیث اور حنفیوں میں قطعا کسی قسم کا کوئی اختلاف ہرگز نہیں۔ یہ فتوی ٰ ایک شرعی مسئلہ کا جواب ہے جو بشرط صحت سوال تحریر کیاگیا ہے ،مفتی کسی قانونی سقم اور عدالتی کاروائی کا ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص817

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ