سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

چار سنتیں دو دو کرکے پڑھیں

  • 13413
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 663

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ظہر  یا عصر کی چار سنت  کو ایک سلام  کے ساتھ  ادا کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سیدنا  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «صلوة  الليل  والنهار مثني مثني »

رات اور دن  کی ( نفل ، سنت ) نماز دو دو ( رکعتیں ) ہے ۔ ( سنن ابی  داود:1295 وسندہ حسن )  اسے ابن خزیمہ  (1210) ابن حبان  (636) اور جمہور محدثین  نے صحیح قراردیا ہے ۔ ( دیکھئے  میری کتاب  نیل المقصود فی التعلیق علی سنن  ابی داود ج1ص 371)

  معرفۃ  علوم  الحدیث  للحاکم  (ص 57 ح101) میں اس کی ایک مؤیدروایت  ہے جس  کی سند حسن  ہے۔اس کے باوجود امام حاکم  نے اسے "وهم " قرار دیا ہے ۔!

 سیدنا  عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  فرماتے تھے کہ" صلوة  اليل والنهار مثني مثني "

اور رات  اور دن  کی  (نفل) نماز  دودو رکعتیں ) ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی  ج  2ص 487 وسندہ  ولاعایۃ فیہ )

اس سے معلوم  ہوا کہ  سنن ابی داود والی حدیث  سابق: صحیح لغیرہ  ہے ۔اس  صحیح حدیث  سے معلوم ہوا کہ  یہ چار سنتیں  دو دو کرکے  دو سلاموں  کے ساتھ پڑھنی چاہیں ۔

نافع تابعی سے روایت ہے کہ ( سیدنا )عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دن  کو چار چار  رکعتیں  (سنت) پڑھتے  تھے(مصنف  ابن ابی شیبہ  ج 2ص274 ح6634 وسندہ  صحیح )

 عبداللہ بن عمر  العمری  ( صدوق حسن الحدیث عن نافع ، ضعیف  عن غیرہ )  عن  نافع  کی سند  سے روایت  ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ  رات کو دو دو رکعت  اور دن کو چار  رکعت  ( نوافل)پڑھتے  تھے ۔ پھر سلام  پھیرتے  تھے ۔ (مصنف  عبدالرزاق 2/501 ح 4225 واسنادہ  حسن  )

اس روایت کی دوسری سند سے  معلوم ہوتا ہے کہ یہ  صحیح مغیرہ ہے ۔ ( دیکھئے مصنف  عبدالرزاق ح 4226) امام ابن المنذر  النیسا بوری  نے اسے "  ثابت  عن ابن  عمر " یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے  ثابت  قراردیا ہے  ۔ (الاوسط  5/ 236)

 تنبیہ: عبداللہ بن عمر العمری  کی مصنف  عبدالرزاق والی روایت الاوسط  میں"اخبرنا  عبيدالله بن عمر  عن نافع ابن عمر "الخ  کی سند سے چھپی ہوئی ہے ! اس  اثر سے معلوم  ہوا کہ  ایک سلام  سے چار  سنتیں  پڑھنا  بھی جائز ہے ۔

 لیکن  بہتر یہی ہے کہ  مرفوع حدیث  کی رو سے   وتر کے علاوہ  تمام سنتیں  اور نوافل  دو دو  کرکے  پڑھے  جائیں ۔

حسن بصری  (تابعی)ؒ  فرماتے ہیں  :"صلوة النهار  ركعتان ركعتان "

دن کی نماز  دو دو رکعتیں ہے ۔ ( مسائل  الامام  احمد واسحاق بن راہویہ ۔روایہ  اسحاق بن منصور  الکوسج  1/ 205  فقرہ : 433 وسندہ  صحیح  الاشعث  ہوابن  عبدالملک  الحمرانی  )

امام احمد بن حنبل  ؒ  دن کی نفل نماز  دو دو کر کے پڑھتے تھے ۔(ایضاً فقرہ  :405)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج1ص424

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ