سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(293) طلاق کے متعلق ایک نقطہ نظر کی وضاحت

  • 12284
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 787

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

طلاق کے مندرجہ ذیل نکتہ نظر کی وضاحت کریں۔

ہفت روزہ‘‘اہلحدیث ’’مجریہ ۳ رمضان المبارک ۱۴۲۶ھ میں ایک فتویٰ شائع ہوا ہے جو صریحاً مسلک اہلحدیث کے خلاف ہے سوال یہ تھا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو ہر ماہ ایک طلاق ارسال کرکے تین طلاق کا نصاب پورا کردیتا ہے، کیا اس کے بعد رجوع کا تعلق ہے یا عورت اس پر دائمی حرام ہوگئی ہے  اس کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر آدمی وقفہ وقفہ سے تین طلاق دے چکا ہو ، جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے تونہ عدت کے اندر رجوع ممکن ہے اور نہ عدت گزارنے کے بعدنکاح کیا جاسکتا ہے، یہ جواب فقہ حنفی کے مطابق ہے۔ مسلک اہل حدیث کی ترجمانی نہیں کرتا کیونکہ اہل حدیث نکتہ نظر کے مطابق  پہلی طلاق کے بعدجب تک رجوع (دوران عدت) یا نکاح جدید(بعد از عدت) نہ ہو اس وقت تک دوسری اور تیسری طلاق لغو اور غیر مؤثر ہوتی ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں صرف ایک رجعی طلاق واقعی ہوئی ہے،لہٰذا بعد از عدت اگر عورت رضامند ہوتو اس سے دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمیں اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرنا چاہیے کہ اس کی مہربانی سےہماری جماعت میں ایسے ‘‘نامعلوم علما’’ موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً ہماری راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے مسلک اہل حدیث کا طرہ امتیاز ہے کہ اس میں مسائل کے استنباط میں کسی کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ کتاب و سنت کو برتری حاصل ہے۔امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں اسی مسلک کو اختیار کیا ہے کہ وہ قرآن و حدیث سے شرعی احکام کا استنباط کرتےہیں۔ وہ اس بات کو قطعاً خاطر میں نہیں لاتے کہ مذکورہ  شرعی حکم کس امام کے مطابق ہے  اور کس کے مخالف ہے، الحمداللہ ہمارا اہل حدیث حضرات کا بھی ہی موقف ہے کہ ہم نے شرعی احکام کے بیان کرنے میں کتاب وسنت کو مدنظر  رکھا ہے۔ وہ کس کےمطابق یا مخالف ہے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ زیر نظر مسئلہ میں ہمارے موقف کی بنیاد یہ ہے کہ ہم ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کو ایک رجعی شمار کرتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس انداز سے دی گئی تین طلاق کو ایک رجعی طلاق قرار دیا ہے۔ (مسند امام احمد،ص:۱۶۵،ج۱)

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مجلس تبدیل ہوجائے ،مثلاً : ہر ماہ ایک طلاق دے ، اس طرح تین مہینوں میں نصاب طلاق (تین طلاق)مکمل کردے تو اس نے مکمل طور پر اپنی بیوی کو زوجیت سے فارغ کردیا ہے۔ اگر اس انداز سے دی گئی تین طلاق کو ایک رجعی شمارکرنا ہے تو مجلس اور غیر مجلس کی تفریق بے سود اور لایعنی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں امام نسائی ؒ نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے‘‘طلاق سنت کا بیان’’ا س کے تحت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے اس کی وضاحت نقل کی ہے کہ طلاق سنت حالت طہر میں ہم بستری کئے بغیر طلاق دینا ہے، پھر حیض کے بعد طہر میں طلاق دے، پھر اس طرح آیندہ حیض کے بعد طہر میں طلاق دے۔(نسائی ، الطلاق:۳۴۲۳)

اس میں پہلی طلاق کے بعد رجوع یا نکاح جدید کی شرط کو بیان نہیں کیا۔ ایسی شرائط محض  تکلف ہیں کیونکہ دوران عدت وہ عورت اس کی بیوی رہتی ہے اور وہ اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے وہ عورت  دوران عدت بھی طلاق کا محل ہے، ہاں ، تیسری طلاق کے بعد اس کا نکاح ختم ہوجائے گا۔اب دوران عدت رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ امام بیہقی ؒ نے اس حدیث کو بایں الفاظ نقل فرمایا ہے:‘‘طلاق سنت یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو ہر طہر میں ایک طلاق دے۔’’آخری طلاق کے بعد بیوی اس عدت کو پورا کرے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔  (سنن بیہقی ،ص:۳۳۲،ج ۷)

ہمارے ‘‘مہربان ’’ نے ہر ماہ طہر میں دی ہوئی تین طلاق کو ایک رجعی شمار کرکے عدت گزرنے کے بعدجو نکاح ثانی کا مشورہ دیا ہے وہ جمہور اہل علم کے موقف کے بالکل خلاف ہے۔ اسے کسی کا تفرد یا انفرادی طور پر موقف تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن مسلک اہل حدیث کی ترجمانی نہیں  کہا جاسکتا ۔ واضح رہے کہ ہم نے انتہائی اختصار کے ساتھ اپنے موقف کو بیان کیا ہے۔بصورت اس پر مزید دلائل بھی دیے جاسکتے ہیں۔  (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:308

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ