سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(147) فرض نماز کے بعد اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر مخصوص دعا پڑھنا

  • 12105
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-27
  • مشاہدات : 586

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم نے جریدہ‘‘اہلحدیث ’’مجریہ ،۲۹اکتوبر ۲۰۰۴شمارہ نمبر ۳۹میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جو حضرات نماز سے فراغت کے بعد اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر ایک مخصوص دعا پڑھتے ہیں ،اس کا ثبوت کتاب و سنت سے نہیں ملتا۔اس کے متعلق ہمارے ایک دیرینہ عزیز لکھتے ہیں:

‘‘آپ نے فرض نمازوں کے بعد سر پر ہاتھ رکھ کر پڑھی جانے والی دعا کے متعلق بحث فرمائی ،ہمارے ہاں عام طورپر یہ عمل  نہیں کیا جاتا لیکن یکم ستمبر۲۰۰۳ءکے صحیفہ اہلحدیث میں اس کو قابل عمل اور اس سے متعلقہ حدیث کو حسن لکھا گیا ہے،مفتی صاحب نے روایت میں مذکورہ عثمان الشمام راوی کے ضعف کو معمولی خیال کرتے ہوئے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔ جب میں نے اصل کتاب میں مراجعت کی تو اس سند میں عثمان الشمام نامی راوی سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ وہ اس سے پہلی حدیث  کی سند میں ہے۔مذکورہ فتویٰ میں سنن نسائی کا حوالہ بھی دیا گیا ،مجھے نسائی میں بھی یہ حدیث نہیں مل سکی،اس کے متعلق آپ کسی موقعہ پر وضاحت فرمادیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ عمل اور اس سے متعلقہ روایت کی مزید وضاحت کرنے سے پہلے ہم صحیفہ اہلحدیث کے متعلق گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ یہ پندرہ  روزہ مؤقر جریدہ جماعت غرباء اہل حدیث کا ترجمان ہے  یہ جماعت عرصہ دراز سے مسلک اہل حدیث کی نشر اشاعت میں مصروف عمل ہے ۔لیکن اس جماعت کا یہ ترجمان نقل روایت کے سلسلہ میں انتہائی متساہل واقع ہوا ہے کیونکہ جس خود ساختہ عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اس میں جو کوشش کی گئی ہے وہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔ارباب حل و عقد کو فتاویٰ نویسی کے شعبہ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔

اس بناوٹی عمل کو مولانا رشید احمد نے فتاویٰ رشیدیہ میں بغیر کسی حوالہ کے لکھا ہے۔(ص:۳۶۳)

علامہ  ہیثمیؒ نے اس عمل کو بحوالہ طبرانی اور مسند البزاردومختلف الفاظ سے بیان کیا ہے ،پھر اس روایت کے ایک راوی زید العمی کے متعلق لکھا ہے کہ اسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (مجمع الزوائد ،ص:۱۱۰،ج۱۰)

حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ زید بن الحوارمی العمی پانچویں درجے  کا کمزور راوی ہے۔(تقریب ،ص:۱۱۲)

علامہ البانیؒ نے ہمیں طبرانی اوسط اورخطیب بغدادی کے حوالہ سے اس روایت کی نشاندہی کی ہے لیکن کثیر بن سلیم راوی کی وجہ سے اس کی سند کو انتہائی کمزورلکھا ہے ۔ اس کے متعلق امام بخاری اور امام ابوحاتم ؒ کہتےہیں کہ یہ راوی ‘‘منکرا لحدیث’’ ہے۔ امام نسائی اور علامہ ازوی ؒ نے اسے متروک لکھا ہے،واضح رہےکہ جس راوی کے متعلق امما بخاری‘‘منکرالحدیث ’’کہہ دیں اسے سے روایت لینا بھی جائز نہیں ہے،جیسا کہ امام ذہبی ؒ نے ابن قطان سے نقل کیا ہے۔(میزان الاعتدال،ص:۵،ج۱)

علامہ البانیؒ مزید لکھتے ہیں کہ مجھے اس روایت کی ایک اور سند ملی ہے جسے محدث ابن السنی نے اپنی کتاب ‘‘عمل الیوم واللیلۃ’’رقم :۱۰اور محدث ابو نعیم نےاپنی (تالیف حلیۃ الاولیاء ص:۳۰۱ج۲)میں بایں سند بیا ن کیا ہے۔عن سلامۃ عن زید العمی عن معاویۃ بن قرۃ عن انس رضی اللہ عنہ

اس سند میں ایک راوی سلامۃ الطویل ہے ،جسے محدثین نے کذاب کہا ہے اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ روایت کا یہ  طریق خودساختہ اور بناوٹی ہے۔ (سلسلہ الاحادیث الضعیفہ،رقم:۶۶۰)

سعودی عرب کی فتویٰ کمیٹی نے اس مسئلہ کے متعلق لکھا ہے کہ نماز سےفراغت کے بعد سر پر ہاتھ رکھنا مسنوں عمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک خودساختہ بدعت ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے  کہ ‘‘جس نے ہمارے دین میں نیا کام ایجاد کیا جس کا تعلق دین سے نہیں وہ مردود اور ناقابل عمل ہے۔’’(فتاویٰ ہیئۃ کبار العلما ء:ص:۳۵۲،ج۲)

جو حضرات فضائل اعمال میں ضعیف روایت کےمتعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ محدثین کے ہاں اس کے لئے کچھ شرائط ہیں جن کا یہاں وجو دنہیں کیونکہ

(الف)مذکورہ روایت فضیلت  عمل سے متعلق نہیں بلکہ ایجاد عمل کے بارے میں ہے جس کا ثبوت صحیح احادیث سے نہیں ملتا ہے۔

(ب)اس روایت میں معمولی درجے کا ضعف نہیں ہے جس کی تلافی کثرت طرق سے ہوسکتی ہو بلکہ اس کا ضعف سنگین قسم کا ہے۔ اس بناپر ایسے اعمال سے اجتناب کرنا چاہیے جو قرآن و سنت س ثابت نہیں ہیں ۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:185

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ