سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(59) قرآن مجید مجاز نہیں ہے

  • 11861
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 1084

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کتب بلاغت میں لکھاہوا ہے کہ قرآن مجید میں مجاز ہے ۔ یہ لوگ  بعض شبہات پیش کرتے ہیں   مثلا ارشاد باری تعالیٰ :

﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ کےبارے میں کہتےہیں کہ اس میں مجاز ہےکیونکہ آزاد توغلام کو کیا  جاتا ہے لیکن اس آیت میں گردن کاذکر اس لیے کیا گیا ہےتاکہ وہ غلام  پردلالت کرے (کیونکہ جز کل پردلالت کرتا ہے) تو  کیا اس کانام مجاز رکھنا صحیح ہے؟

اس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ﴾ حالانکہ بات توزبان سےکی جاتی ہے مگر منہ کاذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ زبان  پر دلالت کرے(کیونکہ کل جز پر دلالت کرتا ہے) اس طرح ارشاد ہے : ﴿أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ﴾ حالانکہ انشراح تو دل کا ہوتا ہے۔ مگر یہاں سینہ کو مجاز ذکر کیاگیا ہے تاکہ یہ دل  پر دلالت  کرے۔ اسی طرح ارشاد  باری تعالیٰ ہے:﴿ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ﴾حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ انگلی کاکنارہ کان میں رکھنا ہے نہ کہ ساری انگلی لیکن یہاں انگلیوں کا ذکر مجازا ہواہے۔ الغرض اس انداز  کی بہت سی آیات ہیں تو کیاان کی یہ  بات صحیح ہے کہ قرآن مجید میں مجاز ہے اوراگر نہین تو اس کی کیا دلیل ہے ؟کیا حدیث میں  بھی مجاز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اپنی اصطلاح کے مطابق بلاغت جس کو مجاز کہتے ہین اس کا کتاب وسنت  اور عربی زبان میں کوئی  وجودنہیں ہے ۔ بلکہ الایمان  میں اس موضوع پر خوب تفصیل کے ساتھ گفتگو کی ہے (الایمان لشیخ الاسلام ابن تیمیہ ص:73)

جسے شیخ عبدالرحمن بن قاسم  نے ’’مجوعہ  الفتاویٰ‘‘ میں نقل کیا ہے نیز علامہ ابن قیم رحمہ اللہ علیہ نے اس موضوع پر اپنی کتاب  ’’ الصواعق المرسلہ‘‘میں تفصیل سےگفتگو کی ہے

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص58

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ