سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(368) بیوی کو ماں بہن کہنا

  • 11630
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-12
  • مشاہدات : 1076

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فیصل آباد سے محمد اکرم لکھتے ہیں۔ کہ میں نے  اپنی بیوی کو تین دفعہ ماں بہن کہہ دیا ہے۔کیا ایسے کلمات کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے۔ تورجوع کی کیا صورت ہوگی کتاب وسنت کی روشنی میں میری مشکل حل کرنے میں مدد کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عرب معاشرہ میں بسا اوقات یہ صورت پیش آتی تھی کہ  جب میاں بیوی کا کسی معاملہ میں جھگڑا ہوجاتا تو شوہر غصہ میں آکر کہتا'' تو میرے لیے  میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے'' مطلب یہ ہوتا کہ تجھ سے مباشرت کرنا میرے لئے ایسا ہے  جیسے اپنی ماں سے مباشرت کروں اسے شریعت کی اصطلاح میں ظہار کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بہت نادان لوگ بیو ی سے لڑ  کر اسے ماں بہن اور بیٹی سے تشبیہ دے بیٹھتے ہیں۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ گویا اب آدمی اسے بیوی نہیں بلکہ ان عورتوں کی طرح سمجھتا ہے۔ جو اس کے لئے حرام ہے۔ اس فعل کا نام ظہار ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسی بات کو ناپسندیدہ اور جھوٹی بات قرار  دیا ہے۔ اور کفارہ کےطور پر اس کی کچھ سزا بھی رکھی ہے۔جس کی تفصیل سورۃ مجادلہ میں بیان ہوئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کو ایسے کلمات کہنا ایک بہت بڑا گناہ اور حرام فعل ہے۔ اس کا مرتکب سزا کا حق دار ہے۔لیکن جو شخص اپنی بیوی کو ماں یا بہن کہہ دیتاہے۔  تشبیہ وغیرہ نہیں دیتا کہ یہ صورت بھی ظہار ہوگی یا نہیں؟اس میں کچھ اختلاف ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکار رہاتھا۔ اس پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور غصہ فرمایا: کہ یہ  تیری بہن ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کرتے ہوئے منع  فرمایا ۔(ابودائود الطلاق 2210)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کوماں  یا بہن کہنے سے ظہار تو نہیں ہوتا البتہ سخت بے ہودہ بات  ضرور ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔البتہ مالکی حضرات اسے بھی ظہار قرار دیتے ہیں حنابلہ کے ہاں اس میں کچھ تفصیل ہے۔ کہ اگرایسے کلمات بحالت  غصہ کہے جائیں تو ظہار ہوگا اگر  پیار ومحبت کی بات کرتےہوئے ایسے کلمات کہہ دیئے جائیں تو انتہائی ناپسندیدہ حرکت ہے۔ لیکن اسے ظہار نہیں قرار دیا جائے گا۔صورت مسئولہ میں خاوندنے اپنی بیوی کو ماں بہن کہا ہے ہمارے نزدیک یہ ظہار نہیں ہے کیوں کہ اس نے ابدی محرمات میں سے کسی عورت کے کسی ایسے عضو کےساتھ تشبیہ نہیں دی جس پر اس کا نظر ڈالنا حرام تھا۔ طلاق تو کسی صورت میں نہیں ہے۔ چونکہ سائل نے ایک بے ہودہ اور ناپسندیدہ بات کہی ہے اس لئے اسے چاہیے کہ اس گناہ کی تلافی کے لئے صدقہ وخیرات کرے اور آئندہ ایسی حرکت کرنے سے توبہ کرے کیونکہ ایسا کرنا مومن کی شان کے خلاف ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:379

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ