سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(652) جنوں کا انسان پر اثر انداز ہونا اور ان سے بچاؤ

  • 11029
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1390

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا جن انسان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، ان سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اس میں کوئی شک نہیں کہ جن انسان پر اثر انداز ہو کر اسے اذیت پہنچا سکتے ہیں، جس کو نوبت قتل تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔ کبھی وہ پتھر پھینک (مار ) کر انسان کو ایذاء پہوچاتے ہیں اور کبھی وہ انسان کو ڈارانے بھی لگتے ہیں، الغرض جنوں کے انسانوں پر اثر انداز ہونے کی یہ مختلف صورتیں ہیں، جو سنت سے ثابت ہیں اور حالات و واقعات سے بھی ان کی تائید ہوتی ہے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے ایک صحابی کو ایک غزوہ میں اپنے گھر جانے کی اجازت دے دی تھی کیونکہ وہ نوجوان تھے اور ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ جب وہ گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی بیوی کو دروازے پر کھڑے ہوئے پایا تو انہیں (بیوی کا اس طرح دروازے پر کھڑے ہوا) معیوب لگا، ان کی بیوی نے ان سے کہا  اندر آجائیں۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو انہیں بستر پر لیٹا ہوا ایک سانپ دیکھا ۔ ان کے پاس ایک نیزہ تھا جو انہوں نے سانپ کو چھبو دیا  جس سے وہ مر گیا ارو عین اسی لمحے جسمیں سانپ مرا وہ نوجوان بھی مرگیا ۔ حتی کہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ سانپ پہلےمرا ہےیا نوجوان ۔ جب نبی اکرمﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے  چھوٹے یا زہریلے اور خبیث قسم کے سانپوں کے سوا گھروں میں موجود سانپوں کو قتل کرنے سےمنع فرمادیا۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جی انسانوں پر زیادتی کرتے ہیں اور انہیں ایذاء پہنچاتے ہیں جیسا کہ تواتر کی حد تک پہنچے ہوئے حالات و واقعات سے بھی معلوم ہوتاہے۔ بہت سے واقعات سےمعلوم ہوتا ہے کہ کئی بار انسان جنگل وغیرہ میں گیا تو اس پر پتھر گرنے لگ گئے حالانکہ اس کو وہاں کوئی انسان نظر نہیں آتا تھا ۔ بسا اوقات انسانوں نے آوازیں اور ایسی سرسراہٹ بھی سنی ہے جیسی درخت کی سرسراہٹ سی ہوتی ہے۔ اس طرح کےکئی واقعات رونما ہوتے ہیں، جو وحشت و اذیت ناک ہوتے ہیں، علاوہ ازیں جن انسان کے جسم میں بھی داخل ہو سکتاہے۔ کبھی تو اسے انسان سےعشق ہو جاتاہے، کبھی اس کامقصد انسان کو ایذاء  پہنچانا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب کوئی اور ہوتاہا ۔ درج ذیل ارشاد باری  تعالی سے بھی اشارہ ملتا ہے:

﴿الَّذينَ يَأكُلونَ الرِّ‌بو‌ٰا۟ لا يَقومونَ إِلّا كَما يَقومُ الَّذى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيطـٰنُ مِنَ المَسِّ... ﴿٢٧٥﴾... سورةالبقرة

’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قبروں سے) اس طرح (حواس باختہ) اٹھیں گے، جیسےکسی کو جن نے لپیٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو۔‘‘

اس صورت میں کبھی یوں بھی معلوم ہوتاہے کہ جن انسان کےاندر سےباتیں بھی کرتا ہے اور وہ شخص سے بھی باتیں کرنے لگتاہے ، جو اسے قرآن کریم کی آیات پڑھ کر دم کر رہا ہو ۔ کبھی دم کرنے والا اس سے وعدہ بھی لے لیتا ہے کہ وہ آئیندہ یہاں نہیں آئے گا ۔ الغرض اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو تواتر تک پہنچی ہوئی اور لوگوں میں بہت مشہور ہیں۔ کہ جو شخص رات کو آیت الکرسی پڑھے تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک محافظ اس کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور صبح تک شیطان بھی اس کےقریب نہیں آسکتا اور اللہ  ہی حفاظت کرنے والا ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص496

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ