سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(9) رجب میں زکوٰۃ دینا اور روزے رکھنا

  • 22442
  • تاریخ اشاعت : 2017-09-17
  • مشاہدات : 191

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا رجب کے مہینے میں بالخصوص روزے رکھنے کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں اسی طرح اس مہینے میں التزام کے ساتھ زکوٰۃ نکالنا صحیح ہے؟ کیونکہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رجب کا مہینہ زکوٰۃ کا مہینہ ہے۔ (ابو عبداللہ، لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رجب ایک ایسا مہینہ ہے جسے عامۃ الناس نے عید و میلہ کا مہینہ سمجھ رکھا ہے خصوصا 27 رجب کی رات کو اور جتنا اس مہینہ کو لوگ بعض علاقوں میں صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ روزے رکھتے ہیں اور عمرے کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے شاید یہ اہتمام عام مہینوں میں نہیں کیا جاتا جبکہ اس ماہ کی خصوصیت کے ساتھ روزے رکھنے اور زکوٰۃ نکالنے کے متعلق کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔ سلف صالحین سے اس کی مخصوص فضیلت میں کوئی روایت ثابت نہیں۔ عام حالت میں جس طرح ہر ہفتہ میں سوموار، جمعرات کا روزہ رکھا جاتا ہے یا چاند کی 13،14،15 کے روزے یا ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزے رکھے جاتے ہیں وہ اس ماہ میں بھی اسی طرح رکھ سکتے ہیں لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ رجب کے مہینے کے کوئی خاص روزے ہیں تو اس کے متعلق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں۔ اس ماہ کا خاص طور پر احترام زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے۔ جیسا کہ المصنف لابن ابی شیبہ 3/102 میں روایت ہے کہ اہل جاہلیت اس کی تعظیم کرتے تھے اور عاصم بن محمد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب لوگوں اور ان کی رجب کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھتے تو ناپسند کرتے۔" (ابن ابی شیبہ) حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ "تبین العجب عما ورد فی فضل رجب" ص 21 پر رقمطراز ہیں"۔ "ماہ رجب کی فضیلت، اس ماہ کے روزوں اور خصوصی طور پر اس کی راتوں کے قیام کے بارے میں کوئی صحیح حدیث جو قابل حجت ہو مروی نہیں اور مجھ سے پہلے اس بات پر امام ابو اسماعیل المروزی الحافظ نے جزم کیا ہے۔ اور حافظ ابن رجب اس ماہ میں خصوصا زکوٰۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

"اس شہر کے لوگوں نے رجب میں زکوٰۃ نکالنے کو عادت بنا لیا ہے اس کی سنت میں کوئی اصل نہیں اور نہ ہی سلف میں سے کسی ایک سے یہ بات معروف ہے۔" (لطائف المعارف ص 125 بحوالہ السنن والمبتدعات لعمر و عبد سلیم)

زکوٰۃ کے لئے قاعدہ شرعیہ یہ ہے کہ جس ماہ میں آدمی کے پاس اتنا مال آ جائے جس پر زکوٰۃ لاگو ہوتی ہے تو وہاں سے حساب کر کے ایک سال گزرنے پر زکوٰۃ دی جائے تو سال کے بعد جو بھی مہینہ آئے اس میں زکوٰۃ دی جائے ہر شخص کے لیے رجب کے مہینہ کی زکوٰۃ کے لیے مختص نہ کیا جائے۔ بہرکیف رجب کے مہینہ میں مخصوص نماز، روزہ اور زکوٰۃ نکالنے کے متعلق کوئی صحیح بات موجود نہیں۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

تفہیمِ دین

کتاب العقائد والتاریخ،صفحہ:41

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ