سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(261) بینک سے مالی معاملات کرنا

  • 20522
  • تاریخ اشاعت : 2017-04-12
  • مشاہدات : 217

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک دوست کی پراپرٹی کروڑوں روپے مالیت کی ہے لیکن وہ مستقبل میں اس کے مصرف میں نہیں آ سکتی، وہ اسے فروکت کرنا چاہتا ہے لیکن جب بھی کسی سے اس زمین کی فروخت کا معاملہ شروع کیا جاتا ہے تو والدین درمیان میں حائل ہو جاتے ہیں، کیا وہ اس زمین کے عوض بنک سے قرضہ لے سکتا ہے، جبکہ اس کا قرض کی ادائیگی کا کوئی پروگرام نہیں بلکہ اس کی نیت ہے کہ نادہندہ ہونے کی صورت میں بنک خود ہی اسے فروخت کرنے کا مجاز ہو گا، کیا ایسا کرنا ناجائز ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں میرے دوست کی راہنمائی کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آدمی جس چیز کا مالک ہو وہ اس میں تصرف کرنے کا مختار ہے، اسے فروکت کرے یا کسی کو ہبہ کر دے، کسی کو درمیان میں حائل نہیں ہونا چاہئے، لیکن والدین اپنی اولاد کے خیرخواہ ہوتے ہیں، ان کی صوابدیدی رائے کو یوں ہی رد نہیں کیا جا سکتا، لڑکے کو چاہئے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بیٹھے اور ان سے مشاورت کرے، انہیں قائل کرے کہ مستقبل قریب میں یہ پراپرٹی میرے کسی کام نہیں آ سکتی، اگر اسے فروخت کر دیا جائے تو حاصل ہونے والی رقم سے کاروبار کیا جا سکتا ہے اور اس سے نفع حاصل ہونے کی امید بھی کی جا سکتی ہے۔ بہرحال والدین کو قائل کیا جا سکتا ہے، یہ مسئلہ کوئی ایسا نہیں ہے جو حل نہ ہو سکے۔ اگر والدین اس پر آمادہ نہ ہوں تو ان کے مؤقف پر ٹھنڈے دل سے غور کر لیا جائے، اگر اسے فروکت کیے بغیر کوئی اور چارہ نہیں ہے تو کسی بھی پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے اسے فروخت کیا جا سکتا ہے، امید ہے کہ یہ کام والدین کی نافرمانی کے زمرے میں نہیں آئے گا لیکن بنک کے ساتھ حیلہ گری کرنے کی شرعا اجازت نہیں ہے کہ وہ بینک سے اس پراپرٹی کے عوض قرض لے اور قرض واپس کرنے کی نیت نہ ہو، شرعی طور پر اس نیت سے قرض لینا جائز نہیں ہے، ہمارا تو یہ مؤقف ہے کہ بنک کے ساتھ اس طرح کا مالی معاملہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ بنک کی بنیاد سود لینے اور سود دینے پر ہے، پاکستان میں تمام بنک حکومتی بنک، یعنی سٹیٹ بنک کے ممبر ہوتے ہیں اور حکومتی بنک آگے عالمی بنک یعنی ولڈ بنک کے ممبر ہوتے ہیں اور سودی کاروبار کرتے ہیں۔ سودی معاملات میں ان سے تعاون کرنا یا ان سے قرض لینے سے یا انہیں قرض دینے کا معاملہ محل نظر ہے، ارشاد باری تعالٰی ہے: "نیکی اور پرہیزگاری کے معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کرو لیکن گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔" (المائدہ:2) لہذ ہمارا رجحان یہ ہے کہ بنک سے بامر مجبوری تو کوئی مالی معاملہ کیا جا سکتا ہے لیکن اگر اس کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے تو بنک کے ساتھ مالی معاملات کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد4۔صفحہ نمبر 243

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ