سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(04) صفات الہیٰ سے متعلق آیات

  • 17611
  • تاریخ اشاعت : 2016-12-26
  • مشاہدات : 196

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اللہ تعالیٰ کے متعلق آیاتِ صفات سے کیا متشابہات[1] میں سے ہیں یا محکمات میں سے؟
[1] مترجم عرض کرتا ہے کہ قرآن مجید کی آیات دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ ہیں جن کے معانی اور حقائق خوب واضح ہیں اور عالم اور جاہل سبھی ان سے اپنی صلاحیت کے مطابق آگاہ ہیں، ان پر عمل کیا جاتا ہے اور وہ منسوخ بھی نہیں ہیں، ان کو محکم/محکمات کہتے ہیں اور جو ان کے برعکس ہیں یعنی جن کے معانی واضح نہیں ہیں یا وہ منسوخ شدہ ہیں اور تلاوت ان کی باقی ہے تو ان کو متشابہ کہا جاتا ہے جیسے کہ سورتوں کی ابتداء میں حروف مقطعات وغیرہ۔



السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اللہ تعالیٰ کے متعلق آیاتِ صفات سے کیا متشابہات[1] میں سے ہیں یا محکمات میں سے؟

[1] مترجم عرض کرتا ہے کہ قرآن مجید کی آیات دو طرح کی ہیں۔ ایک وہ ہیں جن کے معانی اور حقائق خوب واضح ہیں اور عالم اور جاہل سبھی ان سے اپنی صلاحیت کے مطابق آگاہ ہیں، ان پر عمل کیا جاتا ہے اور وہ منسوخ بھی نہیں ہیں، ان کو محکم/محکمات کہتے ہیں اور جو ان کے برعکس ہیں یعنی جن کے معانی واضح نہیں ہیں یا وہ منسوخ شدہ ہیں اور تلاوت ان کی باقی ہے تو ان کو متشابہ کہا جاتا ہے جیسے کہ سورتوں کی ابتداء میں حروف مقطعات وغیرہ۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان میں دونوں ہی پہلو ہیں۔ ایک اعتبار سے یہ متشابہات میں سے ہیں کہ صفاتِ الٰہیہ کی حقیقی کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں اور دوسرے پہلو سے متشابہات میں سے نہیں ہیں کہ عربی لغت کے اعتبار سے ان کے ظاہری معانی معلوم و معروف ہیں تو صفاتِ الٰہیہ بھی اس کی تابع ہیں۔ اور ہمارے لیے ناممکن ہے کہ ذات باری تعالیٰ کی کیفیت اور تفصیل سے آگاہ ہوں۔

امام حدیث ابوبکر خطیب رحمۃ اللہ علیہ جیسے ائمہ سلف نے کہا ہے کہ "صفات کا مسئلہ سلب و ایجادات میں ذاتِ الٰہیہ کے تابع ہے۔" جیسے کہ ہم ذات الٰہ کا اثبات کرتے ہیں، نفی نہیں کرتے ہیں، کیونکہ اس نفی سے اس کا کلی انکار لازم آتا ہے، تو اسی طرح صفات کا معاملہ ہے، ہم ان کا اثبات کرتے ہیں، انکار نہیں کرتے۔ تو جس طرح ہم اس کی ذات کی کیفیت سے آگاہ نہیں ہیں اسی طرح صفات کی کیفیات بھی بیان نہیں کر سکتے ہیں۔ (محمد ناصر الدین البانی)

               ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 35

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ