سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(76) اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟

  • 14149
  • تاریخ اشاعت : 2015-07-07
  • مشاہدات : 843

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اذان اور اقامت کے درمیان کتنا وقفہ ہونا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احادیث سے اذان اور اقامت کے درمیانی وقفہ کی کوئی معین مقدار مذکور نہیں۔ حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

((بَیْنَ کُلِّ أَذَانَینِ صلوة)) (رواہ الجماعة، نیل الاوطار: ج۲ص۷۷)

’’ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے۔‘‘

ایسا آپﷺ نے تین دفعہ فرمایا۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

((کان بلال یؤذن ثم یَمْھَلُ فَإِذَا رَأَی النبیﷺ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصلوة)) (عون المعبود: ج۱ص۲۱۱)

’’حضرر بلال رضی اللہ عنہ اذان کے بعد ٹھہر جایا کرتے تھے اور اس وقت تک اقامت نہ کہتے جب تک رسول اللہﷺ کو حجرہ سے باہر آتے نہ دیکھ لیتے ، جب دیکھ لیتے تو اقامت پرھتے۔‘‘

ان دونوں صحیح احادیث سے اتنا اندازہ ہوتا ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ ضروری ہے کہ نمازی اسنجا اور وضو وغیرہ سے فارغ ہو جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص320

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ