سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(134) وضو کے بعد پانی سے شرمگاہ پر چھینٹیں مارنا

  • 634
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-12
  • مشاہدات : 1261

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وضو کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنے کے بارے میں قرآن وحدیث سے صحیح موقف کی وضاحت کریں۔جزاکم اللہ خیرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وضو کے بعد شرمگاہ پر چھینٹے مارنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ سنن ابن ماجہ کی ایک حدیث میں ہے: " رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ثم أخذ كفا من ماء فنضح به فرجه " ’’رسول اکرم ﷺ وضوفرماتے، پھر چلو بھر پانی لیتے جس سے شرمگاہ پر چھینٹے مارتے۔‘‘

علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ : 374)

ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: " كان إذا توضأ أخذ كفا من ماء فنضح به فرجه "صحيح الجامع: 4697

وبالله التوفيق

محدث فتویٰ

فتویٰ کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ