السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص نے ایک مکان ناجائز روپے سے تعمیر کروایا۔اب جس شخص کو یہ علم ہو کہ یہ مکان ناجائز روپے سے تعمیر کیاگیا ہے۔اس کو اس مکان میں کرایہ دے کر رہنا اور اس میں نماز پڑھناجائز ہے کہ نہیں؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مالک مکان متکلف ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ کرایہ دار بالعوض رہے۔تو اس کوجائز ہے مالک گناہگار ہے۔ یہ مضمون هل ترك لنا عقيل شيئا
سے ماخوز ہے۔واللہ اعلم ۔(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 441۔442)