السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید نے بکر کو ر وپیہ دیا۔کہ اس سے تم تجارت کرو۔ایک مہنیہ تک اس روپیہ سے جس قدر مال خریدو گے۔اس کو اسی مہینے میں فروخت کر دینا۔مگر ایک مہینے میں سب کاروائی کر لینا دوسرے مہینے میں بھی اسی طرح کرنا۔غرض ہر ماہ یہ سلسلہ جاری رہا۔پس ایسی تجارت جائز ہے۔یا کہ نہیں۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جائز ہے مالک کو ہرایک جائز شرط لگانے کا اختیار ہے۔گماشتہ کو منظور نہ ہو نا مانے۔
(فتاوی ثنائیہ جد 2 ص 452)