سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(259) صحابہ کرام کو ہی رضی اللہ عنہم کہنا مشروع ہے

  • 26244
  • تاریخ اشاعت : 2021-03-02
  • مشاہدات : 69

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کتاب ’’عقد الدرر فی اخبار المنتظر ‘‘ کے موضوعات پر نظر ڈالنے کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ بعض روایات میں جو علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔ ان میں اس طرح لکھا ہوا تھا:

((عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فِي تِسْعِ رَايَاتٍ))

اس لفظ یعنی علیہ السلام کوحضرت علی کے ساتھ اور رسول کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے لیے ان الفاظ یا ان سے ملتے جلتے الفاظ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟ محمد۔ب۔ا۔ابہا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان الفاظ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ انہیں یا دوسرے صحابہ کے حق میں ،رضی اللہ عنہ ‘یا رحمہ اللہ کہنا مشروع ہے کیونکہ حضرت علی یا دوسرے صحابہ کے لیے اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔ اسی طرح بعض لوگو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رضی اللہ عنہ کے بجائے کرم اللہ وجہہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ اس کی بھی کوئی دلیل نہیں ، نہ ہی اس تخصیص کے لیے کوئی وجہ ہے ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ان کے لیے بھی وہی الفاظ استعمال کیے جائیں جودوسرے خلفائے راشدین کے لیےاستعمال کیے جاتے ہیں ۔ ان الفاظ کے علاوہ بھی ان کے لیے ایسے الفاظ مختص نہ کئے جائیں ، جن پر کوئی دلیل نہیں ۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ابن بازرحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 250

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ