سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(452) حلال جانوروں کے حرام اجزاء

  • 26142
  • تاریخ اشاعت : 2019-10-04
  • مشاہدات : 149

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 
لاہور سے یحیی عزیز ڈاہروی نمائندہ خصوصی ہفت روزہ ’’ اہلحدیث ‘‘ حلقہ کوٹ رادھا کشن لکھتے ہیں کہ حلال جانوروں میں وہ کون کون سے اجزاء ہیں جو حرام یا مکروہ کے درجے میں آتے ہیں ؟ اس سلسلے میں جو احادیث وارد ہیں ان کا سند اور متن کے لحاظ سے کیا درجہ ہے؟



السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 

لاہور سے یحیی عزیز ڈاہروی نمائندہ خصوصی ہفت روزہ ’’ اہلحدیث ‘‘ حلقہ کوٹ رادھا کشن لکھتے ہیں کہ حلال جانوروں میں وہ کون کون سے اجزاء ہیں جو حرام یا مکروہ کے درجے میں آتے ہیں ؟ اس سلسلے میں جو احادیث وارد ہیں ان کا سند اور متن کے لحاظ سے کیا درجہ ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی چیز کو لوگوں کے لیے حلال یا حرام کرنے کا اختیار اللہ کے پاسے ہے، ایک مرتبہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حلال کردہ کسی چیز کو اپنے آپ پر حرام کر لیا تو اللہ تعالی نے اس بات پر آپ کا بایں الفاظ نوٹس لیا۔

’’اے نبی! جس چیز کو اللہ تعالی نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے آپ اسے حرام کیوں کرتے ہیں؟‘‘(66؍التحریم:1)

چونکہ بندوں پر اللہ کی حلال یا حرام کردہ چیزوں کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہوتا ہے اس لیے بعض اوقات اس تحلیل و تحریم کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی کردی جاتی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف قرآن میں بایں الفاظ بیان ہوئے ہیں : ’’ وہ امین ، اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں ، نیز پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں۔ ‘‘ (7؍ الاعراف : 157)

اس تمہید کے بعد واضح ہوا کہ جو جانور اللہ تعالی نے انسانوں کے لیے حلال کیے ہیں، ان کے تمام اجزاء بالعموم حلال ہیں۔ ہاں اگر اللہ خود کسی چیز کو حرام کردےتو الگ بات ہےجیسا کہ حلال جانور کو ذبح کرتے وقت اس کی رگوں سے جو تیزی کے ساتھ خون بہتا ہے، جسے دم مسفوح کہا جاتا ہے ، اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حرام قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:

’’آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آتےہیں ، میں تو ان میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا خنزیر کا گوشت کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیر اللہ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہو۔‘‘ (6/الانعام :145)

اس دم مسفوح کے علاوہ حلال جانوروں کی کوئی چیز نصاً حرام نہیں ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر حلال جانور کا ہر جزو کھانا ضروری ہو، اگر کسی حصے کے متعلق دل نہیں چاہتا تو یہ انسان کی اپنی مرضی ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جانوروں کے گوشت کے متعلق اظہار ناپسندیدگی فرمایا لیکن آپ کے سامنے ایک ہی دسترخوان پر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے تناول فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کا ناپسندیدہ ہونا اور بات ہے اور اسے حرام قرار دینا چیزے دیگر است، مختصر یہ ہے کہ حلال جانور کے تمام اجزاء حلال ہیں سوائے ان اجزاء کے جنہیں خود اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہو۔ بعض فقہا نے اس سلسلہ میں کاوش کی ہے کہ حلال جانور کے کچھ اجزاء کو حرام کہا ہے مثلا:

1.پتہ 2. مثانہ 3.غدود4.مادہ کی شرمگاہ5. نر جانور کا عضو مخصوص 6. کپورے7. بہتا ہوا خون

بعض حضرات نے بڑی باریک بینی کے ساتھ کھوج لگا کر مزید کچھ جیزوں کی بھی فہرست جاری کی ہے۔

1. حرام مغز 2.تلی کا خون 3.جگر کا خون4. دل کا خون5. پتہ کا پانی 6.ناک کی بلغم 7.آنتیں

8.اوجھڑی۔

ان چیزوں کی حرمت یا کم از کم کراہت کو ثابت کرنے کے لیے دو چیزوں کو بنیاد بنایا گیا ہے:

1. روایت 2. درایت

پہلی بنیاد: روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذبح شدہ بکری سے سات چیزوں کو مکروہ خیال کرتے تھے : پتہ ، غدود اور بہتا ہوا خون وغیرہ۔

دوسری بنیاد: انسانی نفوس ان چیزوں کو خبیث خیال کرتے ہیں۔ لہذا یہ مذکورہ چیزیں حرام یا مکروہ ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک عقل و نقل کے اعتبار سے یہ چیزیں ناپسندیدہ اور خبیث ہیں ، لہذا انہیں حرام ہونا چاہیے۔ اب ہم پہلے روایت کا کھوج لگاتے ہیں اور محدثین کرام کے ہاں ان کا درجہ متعین کرتے ہیں۔

اس روایت کو علامہ سیوطی نے المعجم الاوسط للطبرانی، السنن الکبری للبیہقی اور کامل لابن عدی کے حوالے سے بیان فرمایا ہے اور اس پر ضعیف ہونے کی علامت بھی ثبت کی ہے۔ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف الجامع الصغیر میں رقم 4619کے تحت بیان کیا ہے اور اس کے ضعف اورسبب کو بیان کرنے کےلیے الاحادیث الضعیفہ : حدیث نمبر 2492کا حوالہ دیا ہے جو ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئی اگر ہوئی تو راقم کے پاس نہیں ہے ، تاہم بیہقی کے حوالے سے اس کی سند کے متعلق مؤلف بیان کرتے ہیں۔

امام بیہقی نے اس روایت کو دوسندوں سے بیان کیا ہے ، پہلی سند منقطع ہے کیوں کہ امام مجاہد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی ایک راوی کے رہ جانے کی وجہ سے انقطاع آیا ہے امام بیہقی اسے بیان کرنے کے بعد خود وضاحت کرتے ہیں کہ اس کی سند منقطع ہے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی :7/10)

پھر ایک دوسری سند سے اس روایت کو بیان کرتے ہیں اس میں انقطاع تو نہیں ہے لیکن ایک دوسری خرابی کہ وجہ سے یہ عدم انقطاع مخدوش ہو جاتا ہے اس سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ ہیں جس کے متعلق خود امام بیہقی فرماتے ہیں :’’ کہ وہ ضعیف کمزور ہے اس وجہ سے اس کا موصول ہونا بھی صحیح نہیں رہتا ۔‘‘(8/10)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں کہ یہ منکر الحدیث ہے ، ابن عدی لکھتے ہیں کہ اسے احادیث وضع کرنے کی عادت تھی، امام ابن معین کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔ ( میزان الاعتدال :3/224)

اس کا شیخ واصل بن ابی جمیل ہے ، اس کے متعلق یحیی بن معین فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ امام مجاہد اور مکحول اور اس سے امام اوزاعی مرسل احادیث بیان کرتے ہیں ۔ (میزان الاعتدال : 4/328)

ان تصریحات کی موجودگی میں سند کے اعتبار سے یہ روایت ناقابل حجت قرار پائی ہے۔

اب ہم دوسری بنیاد کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان چیزوں کو انسانی نفوس خبیث خیال کرتے ہیں ، اس بنیاد کی بھی کوئی حیثیت نہیں کیوں کہ کسی چیز کو خبیث یا طیب قرار دینا انسانی نفوس کا کام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالی کا اختیار ہے اور وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی چیز کے متعلق خبیث یا طیب ہونے کے متعلق مطلع کرتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:1 صفحہ:458

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ