سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(239) وضو سے بچے پانی کے پینے کا حکم

  • 1437
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-04
  • مشاہدات : 1023

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وضو کا بچا ہوا پانی کیا پیا جاسکتا ہے؟ او رکچھ لوگوں کا خیال ہےکہ اس پانی سے شفاء حاصل ہوتی ہے؟ ازراہ کرم بالتفصیل جواب مطلوب ہے۔جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وضو سے بچا پانی پاک ہوتا ہے اور پینےکے علاوہ دوسرے استعمال میں لایا جاسکتاہے۔

حدیث میں آتا ہے :

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے آنحضرتﷺ کے پاس لے گئیں اورعرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ یہ میرا بھانجا ہے اور پاؤں کے درد سے بیمار ہے ۔ آپﷺ نے میرے سر پرہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی پھر آپﷺ نے وضو کیا تو میں نے آپﷺ کے وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔ پھر آپﷺ کے پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔ (صحیح بخاری:190)

اسی طرح حضرت علی کے متعلق وارد ہے کہ

انہوں نے عصر کی نماز کے لیے وضو کیا او راس وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہوکر پی لیا او رفرمایا: میں نے اللہ کے رسولﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ (سنن نسائی :130)

درج بالا روایات سے معلوم ہوا کہ آپﷺ نے خود بھی وضو کا بچا ہوا پانی پیا اور آپﷺ کے سامنے پیا بھی گیا لہٰذا وضو کا بچا ہوا پانی پینے میں استعمال ہوسکتا ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ اس میں شفاء ہوتی ہے تو اس بارے میں ہمیں کوئی دلیل نہیں مل سکی۔

وبالله التوفيق

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ