سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

maa ky dood palana ki mudat islam ki nazar main

  • 1109
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 182

سوال

maa ky dood palana ki mudat islam ki nazar main
ماں کے دودھ پلانے کی مدت السلام عليكم ورحمة الله وبركاته اسلام کی نظر میں ماں کے دودھ پلانے کی مدت کتنی ہے۔؟ الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته! الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! اسلام کی نظر میں ماں کے دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔ ﴿وَٱلۡوَٰلِدَٰتُ يُرۡضِعۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِۖ لِمَنۡ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَۚ﴾--بقرة233 ’’اور بچے والیاں دودھ پلائیں اولاد اپنی کو دو برس پورے واسطے اس شخص کے جو ارادہ یہ کرے پورا کرے دودھ پلانا‘‘ اور دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَفِصَالُہُ فِیْ عَامَیْنِ ﴾لقمان14 ’’اور دودھ چھڑانا اس کا بیچ دو برس کے‘‘ ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دودھ پلانے کی عمومی مدت دوسال ہے، ہاں خاوند بیوی باہمی صلاح مشورہ کے ساتھ دو سال سے قبل بھی بچے کو دودھ چھڑا سکتے ہیں: ﴿فَإِنۡ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٖ مِّنۡهُمَا وَتَشَاوُرٖ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَاۗ﴾--بقرة233 ’’پس اگر وہ ارادہ کریں دودھ چھڑانا رضامندی آپس کی سے اور مصلحت سے پس نہیں گناہ اوپر ان دونوں کے‘‘ اگر بچے کی والدہ بچے کو دودھ نہ پلائے کسی اور مرضعہ سے دودھ پلوا لیا جائے تو بھی درست ہے: ﴿وَإِنۡ أَرَدتُّمۡ أَن تَسۡتَرۡضِعُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُمۡ﴾--بقرة233 ’’اور اگر ارادہ کرو تم یہ کہ دودھ پلوا لو تم اولاد اپنی کو‘‘ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتوی کمیٹی محدث فتوی

تبصرے