جو شخص حج یا عمرہ کی سعی سے عاجز ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ سعی یا طواف میں کسی کو اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے؟ اور اگر حج کا وقت ختم ہونے کے بعد وہ خود تندرست ہو جائے تو کیا کرے؟
طواف اور سعی میں وکالت صحیح نہیں ہے بلکہ لازم یہ ہے کہ طواف اور سعی کو خود کیا جائے خواہ اس کے لیے چار پائی یا گاڑی وغیرہ کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔ اگر کسی کو شدت مرض کے باعث اس کی بھی طاقت نہ ہو تو وہ بدستور حالت احرام میں رہے اور شفایاب ہونے کے بعد طواف و سعی کرے خواہ کئی ماہ گزر جائیں بشرطیکہ اس کے شفایاب ہونے کی امید ہو، اس کے لیے احرام کو ختم کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ کسی کے باطل کرنے سے باطل نہیں ہوتا اور اگر کوئی شخص شفایاب ہونے سے مایوس ہو جائے تو وہ محصر (راستے میں روکے ہوئے شخص) کی طرح ہے، اسے چاہیے کہ ایک بکری ذبح کر کے حرم کے مسکینوں کو کھلا دے اور حلال ہو جائے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"اور اگر (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کر دو۔)"
اور اگر بکری کی قیمت موجود نہ ہو تو پھر دس روزے رکھے اور پھر حلال ہو جائے۔ اور اگر کوئی شخص عرفہ سے قبل بیمار ہو جائے اور وقوف عرفہ نہ کر سکے تو اس کا حج فوت ہو گیا، لہذا اسے چاہیے کہ عمرہ کر کے حلال ہو جائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب