السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کسی شخص کو اس شرط پر قرض دینے کا کیا حخم ہے کہ وہ ایک معینہ مدت کے بعد رقم واپس کرے پھر وہ آپ کو اتنی ہی رقم مدت کے لیے قرض دے۔ کیا یہ معاملہ اس حدیث کے تحت آتا ہے: (ہر وہ قرض جو نفع کھینچ لائے، وہ سود ہے)… یہ خیال رہے کہ میں نے اس سے کسی زیادتی کا مطالبہ نہیں کیا؟ (عبدالرحمن۔ ن۔ الریاض)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ قرض اس لیے جائز نہیں کہ اس میں نفع کی شرط ہے اور وہ نفع بعد والا قرض ہے اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر وہ قرض جس میں کسی منفعت کی شرط ہو، وہ سود ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک جماعت نے جو فتویٰ دیا وہ اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ رہی وہ حدیث جس کا ذکر کیا گیا ہے کہ ’’ہر وہ قرض جو نفع کھینچ لائے وہ سود ہے‘‘ تو یہ حدیث ضعیف ہے۔ ایسے قرض کے ممنوع ہونے کا انحصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتویٰ اور اہل علم کے اجماع پر ہے… اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب