سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(402) از عبدالمنان نور پوری بطرف عالم حقانی جناب مبشر احمد صاحب ربانی۔

  • 4770
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 939

سوال

(402) از عبدالمنان نور پوری بطرف عالم حقانی جناب مبشر احمد صاحب ربانی۔
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

از عبدالمنان نور پوری بطرف عالم حقانی جناب مبشر احمد صاحب ربانی۔

جہاد ٹائمز جلد ۲ شمارہ نمبر ۲۲ ،۲۱ تا ۲۷ ذوالحجہ  ۱۴۲۱؁ھ والے پرچہ میں بسلسلہ تفہیم دین ’’ نماز جمعہ کی کل رکعتیں ‘‘ عنوان کے تحت جناب لکھتے ہیں: ’’ صحیح البخاری کتاب الجمعہ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے، جب امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت پڑھنے کے بغیر نہ بیٹھے۔‘‘

صحیح البخاری کتاب الجمعہ میں یہ الفاظ: (( جَائَ رَجُلٌ وَالنَّبِیُّ  صلی الله علیہ وسلم یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَقَالَ: أَصَلَّیْتَ یَا فُلاَنُ۔ فَقَالَ: لاَ۔ قَالَ: قُمْ ، فَارْکَعْ  )) اور  (( دَخَلَ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالنَّبِیُّ  صلی الله علیہ وسلم یَخْطُبُ ، فَقَالَ: أَصَلَّیْتَ۔ قَالَ: لا۔ قَالَ: قُمْ ، فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ )) تو ملے ہیں ، مگر آپ کے ذکر کردہ الفاظ نہیں ملے۔ برائے مہربانی صحیح بخاری یا کسی اور کتاب سے ان الفاظ کا حوالہ بیان فرمادیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

از ابو الحسن مبشر احمد ربانی بطرف حافظ عبدالمنان صاحب نور پوری۔

جہاد ٹائمز میں فروگزاشت میری غفلت کا نتیجہ ہے۔ لکھتے وقت اصل کی طرف مراجعت نہ کرسکا۔ یہ دراصل صحیح البخاری کی حدیث ابوقتادہ  رضی اللہ عنہ (( اذا دخل احدکم المسجد فلا یجلس حتی یصلی رکعتین)) [رقم:۱۱۶۳]جو دوسرے مقام پر یوں ہے: (( اذا دخل احدکم المسجد فلیرکع رکعتین قبل ان یجلس )) [رقم:۴۴۴]سے التباس کی وجہ سے ہوا ہے۔

جابر  رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ صحیح البخاری (۱۶۶) میں یوں بھی مروی ہیں: (( اذا جاء احدکم والامام یخطب أو قد خرج فلیصل رکعتین )) اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہی کی معافی کا درخواستگار ہوں۔ آپ سے بھی دعا کی اپیل ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا: ’’ برائے مہربانی صحیح بخاری یا کسی اور کتاب سے ان الفاظ کا حوالہ بیان فرمادیں۔‘‘

تو عرض یہ ہے کہ جابر  رضی اللہ عنہ کی حدیث بایں الفاظ:  (( اذا جاء احدکم المسجد والامام یخطب فلیصل رکعتین قبل ان یجلس )) [صحیح ابن خزیمہ (۱۸۳۱)]اور [تقریب البغیۃ بترتیب احادیث الحلیۃ للھیثمیؒ (۹۳۴) ۱؍۳۴۳] میں اور (( اذا جاء احدکم یوم الجمعۃ والامام یخطب فلیصل رکعتین خفیفتین ثم لیجلس )) دار قطنی (۱۵۹۵) میں اور (( اذا جاء احدکم ولم یکن صلی فلیصل رکعتین ثم لیجلس۔ وذاک یوم الجمعۃ )) کتاب معجم شیوخ ابن الاعرابی (۲۰۰) میں موجود ہیں اور مؤخر الذکر کی سند میں صباح المزنی اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ موجود ہیں۔

                                ۲ محرم الحرام ۱۴۲۲؁ھ                      ۲۱ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۱ھ


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 342

محدث فتویٰ

تبصرے