سوال: کیا مناظرہ کرنا جائز ہے؟ میرے کئی دوست کہتے ہے کی ہمارے یہاں جس طرح سے مناظرے ہوتے ہے یعنی آمنے سامنے دو مسلک کے لوگ بیٹھ جاتے ہے اور دونوں ہی طرف سے طنز اور بدزبانی وغیرہ ہوتی ہے، اور بعد میں جو جیت جاتا ہے تو لوگ جشن مناتے ہے اور ہارنے والے کو انٹرنیٹ ا
جواب: قرآن نے اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ کی اجازت دی ہے لیکن اس جدال کو مجادلہ احسن کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ پس مطلقا مناظرہ یا مجادلہ درست نہیں ہے۔ ہاں، اگر جدال احسن ہو تو مخصوص صورتوں میں اس کی اجازت ہے۔
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے
۱- پس اگر مناظرہ و مجادلہ میں پیش نظر دوسرے کو ہرانا یا رسوا کرنا نہ ہو بلکہ دعوت و اصلاح ہو۔
۲۔ مناظرہ و مجادلہ حکمت و اچھی وعظ و نصیحت پر مبنی ہو۔
۳۔ مناظرہ و مجادلہ احسن طریق پر ہو یعنی اس میں اخلاق حسنہ، عمدہ گفتگو، بہترین اسالیب کلام، سنجیدگی و وقار اور باہمی ادب و احترام کا لحاظ کیا گیا ہو۔
اگر تو اس مناظرہ میں فریق مخالف جہالت و جذباتی گفتگو کا مظاہرہ کرنا شروع کر دے تو سلام کہہ کر اس سے رخصت لے لینی چاہیے۔ ارشاد باری تعالی ہے: