السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قرآن مجید کو تجوید کے ساتھ پڑھنا شرعاً فرض ہے یا مستحب؟ کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت سے جواب دیں۔ (السائل: ع۔ح۔ فیصل آباد) (۶ مارچ ۱۹۹۸ء)
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھنا حتی المقدور ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَرَتِّلِ القُرءانَ تَرتيلًا ﴿٤﴾... سورة المزمل
’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔‘
ضحاک نے کہا ترتیل یہ ہے کہ ایک ایک حرف کو علیحدہ علیحدہ پڑھا جائے۔ اور حدیث میں ہے:
’ یُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآٰنِ اقْرَأْ، وَارْتَقِ، وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْیَا۔‘ (سنن ابی داود،بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّرْتِیلِ فِی الْقِرَاءَةِ،رقم:۱۴۶۴،سنن الترمذی،رقم:۲۹۱۴،و صححه)
اسی طرح’’صحیح بخاری‘‘اور ’’ابوداؤد‘‘ میں مدِّ صوت کا بھی ذکر ہے اور بعض روایات میں ترجیع کا بھی تذکرہ ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب