جناب محترم حافظ صاحب میں آپ کی کتاب ’’احکام و مسائل ‘‘ کا مطالعہ کر رہا تھا جس کے اندر ابو داؤد کی یہ حدیث درج تھی ، آپ اس حدیث کی وضاحت کر دیں وہ حدیث یہ تھی:
’’حضرت عطاء بن یسار نے بیان کیا کہ ایک شخص اپنا ازار لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ جا وضوء کر کے آ ، وہ گیا اور دوبارہ وضوء کیا ، لہٰذا ایک شخص کے پوچھنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جو اپنا ازار لٹکا کر نماز پڑھے۔‘‘(رواہ ابو داؤد)
کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ نہیں ؟او رآپ نے (مسند احمد) کا حوالہ دیا ہے اس کے اندر حدیث ضعیف ہے ۔ اس کی وضاحت کریں۔
____________________________________________________________
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ابو داؤد والی حدیث کی شرح میں صاحب تنقیح الرواۃ لکھتے ہیں:
وفی إسنادہ أبو جعفر رجل من أھل المدینة لا یعرف اسمه والصحیح أن أبا جعفر ھذا ھو المؤذن ، وھو مقبول حسن الترمذی حدیثہ، وقال النووی فی ریاض الصالحین بعد إیرادہ لھذا الحدیث: رواہ أبو داؤد، بإسناد صحیح علی شرط مسلم۔ وقال فی مجمع الزوائد بعد ذکر ھذا الحدیث: عزاہ صاحب الأطراف إلی النسائی، ولم أجدہ فی نسختی ، فلعله فی الکبری ، ثم قال : رواہ أحمد ، ورجاله رجال الصحیح فالحدیث صحیح من غیر تردد (۱؍۱۳۷)واللہ أعلم