سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(191) شادی کارڈ پر بسم اللہ لکھنے کا حکم

  • 15709
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 1125

سوال

(191) شادی کارڈ پر بسم اللہ لکھنے کا حکم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا شادی کے کارڈ وں پر بسم اللہ لکھنی جائز ہے کیونکہ انہیں بعد میں سڑکوں اور کوڑے کی ٹوکریوں میں پھینک دیا جا تا ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خطوط اور کارڈوں پر بسم اللہ لکھنی جائز ہے اس لیے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  بھی خطوط لکھنے کی ابتداء بسم اللہ سے ہی کرتے تھے لیکن یہ جائز نہیں کہ جسے بھی یہ کارڈ یا پھر وہ خط ملے جس میں بسم اللہ یا کوئی حدیث یا آیت لکھی ہو تو وہ اسے کوڑے کی ٹوکری میں یہ پھر سڑک پر پھینک دے اسی طرح اخبارات وغیرہ جس پر اللہ تعالیٰ کا نام اور آیات و احادیث ہوں پھینکنے جائز نہیں اور نہ ہی انہیں کھاناکھانے کے لیے دسترخوان ہی بنانا جائز ہے اسی طرح سود اسلف ڈالنے کے لیے بھی ایسے اخبارات کا استعمال یا ان کی پڑیاں بنانا بھی جائز نہیں ۔

یہاں یہ بات یادرہے کہ اس کا گناہ لکھنے والے پر نہیں بلکہ گناہ اس پر ہو گا جو اس کی بے حرمتی کرتا ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ )
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ نکاح و طلاق

ص261

محدث فتویٰ

تبصرے