سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) مسجد میں عورتوں کا پروگرام

  • 14683
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 1470

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسجد میں عورتوں کا کوئی پروگرام یا جلسہ ہو سکتا ہے ؟ قرآن و حدیث کی رو سے جواب دیں ۔ 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورتیں اپنے پردے اور مسجد کے آداب شرعیہ کو ملحوظ رکھ کر مسجد میں آئیں تو ان کا روکنا درست نہیں ہے۔ اس کی دلیل عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا :

(( إذا استأذنت  امرأة أحدكم إلى المسجد فلا يمنعها))

    '' کہ جب تمہاری کوئی عورت مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو اسے مت روکو'' ( متفق علیہ )
دوسری دلیل رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا :

(( لا تمنعوا نسائكم المساجد و بيوتهن خير لهن ,))
    ''اپنی عورتوں کو مسجد وں میں آنے سے نہ رکوکو اور ان کے گھر ان کیلئے بہترہیں '' ( راوہ ابو داؤد )
    علامہ ناصر الدین البانی حفظہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   کے یہ فرامین عام ہیں ۔ عورتیں خواہ نماز پڑھنے کیلئے آئیں یا تعلیم وتر بیت وعظ و نصیحت کیلئے ان کو روکنا درست نہیں ہے۔ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   کی سنت سے ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ جس میں عورتیں نماز پڑھنے کیلئے تو مساجد میں آسکتی ہوں مگر وعظ نصیحت کیلئے انہیں آنے کی اجازت نہ ہو  پھر یہ بات بھی یاد رہے کہ جو نص مردوں کے لئے مساجد میں اپنا جلسہ یا تبلیغی پروگرام کرنے کی دلیل ہے ، وہی عورتوں کی بھی دلیل ہے بشرطیکہ آداب مسجد کو ملحوظ رکھا جائے کوئی حائضہ یا نفاس والی عورت یا خوشبو لگا کر اور بے پردگی کے ساتھ عورتیں مسجد میں جائیں ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ