سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ماہ صفر کے آخری بدھ کو چاشت کی نماز پڑھنا یہ خلاف سنت ہے

  • 14567
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 1703

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ملک میں بعض علماء کہتے ہیںکہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو ایک نماز پڑھی جاتی ہے جو ضحی کے وقت چار رکعت ایک سلام سے پڑھی جاتی ہے۔ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ ، سورہ کوثر ، سترہ (۱۷) بار، سورئہ اخلاص پچاس (۵۰) بار اور معوذتین ایک ایک بار پڑھتے ہیں ۔ سلام پھیر کرتین سو ساٹھ دفعہ یہ آیت پڑھتے ہیں:

﴿وَاللَّـهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢١﴾...يوسف

پھر جوہرۃ الکمال تین بار پڑھ کر آخر میں ایک دفعہ کہتے ہیں :

 ﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٨٠ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴿١٨١وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٨٢﴾...الصافات
اور فقیروں کو کچھ روٹی بھی خیرات کے طور پر دیتے ہیں۔ اس عمل کی خاصیت یہ ہے کہ  صفر کے آخری بدھ کو جو مصیبتں اور بلائیں نازل ہوتی ہیں ان سے حفاظت ہوتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر سال صفر کے آخری بدھ کو تین لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں اور یہ سال کا سب سخت دن ہوتا ہے ۔لیکن جو شخص اس دن مذکورہ بالاطریقے سے مذکورہ بالا نماز پڑھ لے وہ ان تمام بلائوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جوکوئی اس طرح یہ نماز ادا نہ کر سکے۔مثلا بچے وغیرہ تو اسے یہ سورتیں اور آیات لکھ کر گھول کر پلادی جائیں۔۔ کیا یہ عمل جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال بیان کی گئی نماز کی کوئی دلیل قرآن مجید میں ملتی ہے نہ حدیث شریف میـں۔ اس کا ثبوت صحابہ تابعین میں سے کسی سے ملتا ہے اور نہ بعد کے کسی نیک بزرگ سے ، لہٰذا یہ غلط کام اور بدعت ہے ۔ نبیﷺ نے فرمایا:

((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسْ عَلَیْه أَمْرُنَا فَھُوَرَدٌّ))

’’ جس نے کوئی ایسا عمل کی اجو ہمارے دین کے مطابق نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا هذا مَالَیْسَ مِنْه فَهوَ رَدٌّ))

’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کی اجو (دراصل) دین میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘

جس نے یہ نماز اور اس کی فرضی فضائل کی نسبت جناب رسول اللہﷺ یا کسی صحابی کی طرف کی اس نے بہت بڑا جھوٹ بولا ، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کذابوں کی وہ سزا ملے گی جس کا وہ مستحق ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ