سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کیا صحراء میں رہنے والوں پر بھی وضوء اور غسل واجب ہے

  • 10132
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-19
  • مشاہدات : 1094

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم صحراء میں بسنے وا لے بدو ہیں پا نی ہم سے پچا س کلو میٹر دور ہے ہم اپنے اہل و عیا ل کے لئے گا ڑیوں پر پا نی لا تے اور اسی میں سے اونٹ اور بکریوں کو پلاتے ہیں  کیا جنا بت کی وجہ سے ہم پر بھی وضوء اورغسل واجب ہے؟ جب کہ  بعض گھروں  میں دس یا اس سے بھی زیا دہ افراد ہیں یا ہمارے لئے تیمم جا ئز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب پا نی مو جو د ہو تو اللہ تعالیٰ نے وضوء اور غسل کا حکم دیا ہے اور اگر پا نی مو جو د نہ ہو یا بیما ری وغیرہ کی وجہ سے پا نی کے استعمال  میں دشواری ہو تو اللہ تعا لیٰ نے تیمم کا حکم دیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلو‌ٰةِ فَاغسِلوا وُجوهَكُم وَأَيدِيَكُم إِلَى المَر‌افِقِ وَامسَحوا بِرُ‌ءوسِكُم وَأَر‌جُلَكُم إِلَى الكَعبَينِ ۚ وَإِن كُنتُم جُنُبًا فَاطَّهَّر‌وا ۚ وَإِن كُنتُم مَر‌ضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌ أَو جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لـٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم مِنهُ ۚ ...﴿٦﴾... سورة المائدة

"مو منو !جب تم نما ز پڑھنے کا قصد کیا کر و تو منہ اور کہنیوں تک ہا تھ  دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کر و اور ٹخنو ں تک  پاؤں (دھو لیا کرو ) اور اگر نہا نے کی حا جت ہو تو (نہا کر )پا ک ہو جا یا کر و اور اگر تم بیما ر ہو یا سفر میں ہو یا تم بیت الخلا ء سے ہو کر آئے ہو یا تم عو رتوں سے ہم بستری کی ہو اور تمہیں پا نی نہ مل سکے تو پا ک مٹی سے اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم ) کر لو ۔ سا ئل نے جب یہ ذکر کیا کہ وہ اونٹ اور بکریوں کو پلا نے کے لئے پا نی لا تے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں  کہ ان کے پا س پا نی مو جو د ہے لہذا ان کے لئے وضوء او ر غسل لا ز م ہے ان کا صحراء نشین ہو تا اور پا نی سے پچا س کلو میٹر دور ہو نا ایسا عذر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے لئے تیمم جا ئز ہو کیو نکہ وہ تو اونٹوں اور بکریو ں کے لئے بھی گا ڑیوں پر پا نی لا تے ہیں

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص293

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ