سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(101) مکروہ اوقات میں حاجی گھرآئے توان اوقات میں نفل پڑھے

  • 783
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-29
  • مشاہدات : 538

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سنت ہےکہ حاجی لوگ واپس آئیں تواپنے گھر میں داخل ہونےسے قبل دونفل پڑھ کرآئیں ۔اگرحاجی ایسے وقت اپنے گاؤں میں پہنچیں کہ اس میں نماز پڑھنی منع ہوتونفل کیسے ادا کرے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔امام ابن تیمیہؒ نے اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ سببی نماز ایسے وقت میں بھی جائز نہیں جس میں نماز پڑھنی منع ہے مثلاً عصر کےبعد مسجد میں آئے توتحیۃ المسجدپڑھ سکتا ہے۔وضوکرے توتحیۃالمسجدپڑھ سکتا ہے کیونکہ اس کاسبب وضوہے اورتحیۃالمسجد کاسبب مسجد میں داخل ہونا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ کوئی نماز جائز نہیں کیونکہ ممانعت عام ہے اس میں سببی غیرسببی سب نماز داخل ہوگی۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ دلیل دونوں طرف ہے۔اگرحاجی ایسے وقت میں نفل پڑھ لے توحرج نہیں۔  نہ پڑھےتوبھی مضائقہ نہیں مگرضرور کرے کہ سیدھا گھرنہ جائے مسجد میں یا کسی اورجگہ بیٹھ جائے لوگ ملاقات کرلیں اوردعاکرالیں تاکہ اس حدیث پرعمل ہوجائے کہ حاجی کی دعا گھرمیں داخل ہونے سے پہلے مستجاب ہے۔اگرٹائم تھوڑا ہوتوغروب آفتاب کےبعدنماز مغرب پڑھ کرگھر جائے تاکہ مغرب کی نماز ان نوافل کےقائم مقام ہوجائے جوحاجی نےبطور تحیۃالمسجد پڑھنے تھے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نماز کا بیان، ج2 ص59 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ