سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(744) قرآن وسنت کی روشنی میں داڑھی کی اہمیت کیا ہے ؟

  • 5354
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-03
  • مشاہدات : 1854

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
:(۱)  قرآن وسنت کی روشنی میں داڑھی کی اہمیت کیا ہے ؟(۲) چھوٹی داڑھی کے متعلق وضاحت فرمائیں ؟ (۳) اور جو کہتے ہیں کہ داڑھی اسلام میں ہے اسلام داڑھی میں نہیں ہے اس کی حقیقت کیا ہے ؟          نوید احمداوکاڑہ

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

:(۱)  قرآن وسنت کی روشنی میں داڑھی کی اہمیت کیا ہے ؟(۲) چھوٹی داڑھی کے متعلق وضاحت فرمائیں ؟ (۳) اور جو کہتے ہیں کہ داڑھی اسلام میں ہے اسلام داڑھی میں نہیں ہے اس کی حقیقت کیا ہے ؟          نوید احمداوکاڑہ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱)  قرآن وسنت کی روشنی میں داڑھی رکھنا بڑھانا فرض ہے اسے کاٹنا کٹانا مونڈنا منڈانا ناجائز، گناہ اور حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {وَمَنْ یُّطِعِ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہٗ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ}1 [اور جو کوئی اللہ کے اور اس کے رسول کے حکم پر چلے اس کو داخل کرے گا جنتوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اور یہی ہے بڑی کامیابی اور جو کوئی نافرمانی کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور نکل جاوے اس کی حدوں سے ڈالے گا اس کو آگ میں ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس کے لیے ذلت کا عذاب ہے] نیز اللہ تعالیٰ کا ہی فرمان ہے : {وَمَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَّلاَ مُوْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ أَمْرًا أَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً مُّبِیْنًا}2  [اور کام نہیں ایماندار مرد کا اور نہ ایماندار عورت کا جبکہ مقرر کر دے اللہ اور اس کا رسول کوئی کام کہ ان کو رہے اختیار اپنے کام کا اور جس نے نافرمانی کی اللہ کی اور اس کے رسول کی سو وہ گمراہ ہوا صریح گمراہ ہونا] 

صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا حکم ہے : {أَعْفُوْا اللِّحٰی} داڑھیوں کو بڑھائو اور صحیح مسلم میں ہے : {وَخَالِفُوْا الْمُشْرِکِیْنَ وَالْمَجُوْسَ} مشرکوں اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔ کیونکہ ان میں سے کچھ منڈاتے اور کچھ کٹاتے تھے تو رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ان کی مخالفت کرو اور داڑھیوں کو بڑھائو مقصد واضح ہے کہ نہ کٹائو اور نہ منڈائو۔

ہر مسلم جانتا ہے کہ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا حکم اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : {مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ اﷲَ} نیز اللہ تعالیٰ ہی فرماتے ہیں : {وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی ٭ إِنْ ہُوَ إِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی} 3 [اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا]نیز  قرآن مجید میں ہے : {إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا یُوْحٰی إِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ} پھر قرآن مجید میں ہے : {إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَآ یُوْحٰی إِلَیَّ} اس اصول وقاعدہ سے کچھ صورتیں مستثنیٰ ہیں جن کا کتاب وسنت میں ذکر  موجود ہے البتہ داڑھی والا حکم اس عام اصول وقاعدہ کے تحت مندرج ہے کیونکہ کتاب وسنت میں کہیں اس کو عام اصول وقاعدہ سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا لہٰذا بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’اللہ کا حکم تو فرض پر دلالت کرتا ہے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا حکم فرض پردلالت نہیں کرتا‘‘ بے بنیاد اور غلط ہے کیونکہ یہ غمازی کر رہا ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والے لوگ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم  کے حکم کو اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں سمجھتے اور یہ عقیدہ رکھنا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کی رسالت اورنبوت کے انکار پر منتج ہے ہاں اگر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کے امر وحکم کو وجوب وفرض سے ندب واستحباب کی طرف پھیرنے والا

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1[النساء ۱۳۔۱۴ پ۴]2[الاحزاب ۳۶ پ۲۲]3[النجم ۳۔۴پ۲۷]

کوئی قرینہ کتاب وسنت میں مل جائے تو ندب واستحباب پر محمول ہو گا مگر داڑھی کے سلسلہ میں کتاب وسنت میں کوئی قرینہ صارفہ نہیں ہے ۔

(۲) چھوٹی داڑھی اگر قدرتی اور فطرتی ہے تو درست ہے البتہ کٹوا کر یا کسی اور طریقہ سے اسے چھوٹی کرنا رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کے فرمان : {أَعْفُوْا اللِّحٰی} کے منافی ہونے کی بنا پر ناجائز گناہ اور حرام ہے اگر کسی صحابی سوال سے یہ چیز سرزد ہوئی تو یہ ان کی خطا ہے اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین  کی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں فرمایا : {رَضِیَ اﷲُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ}1 [اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی]  {وَأَعَدَّلَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ} 2  [اور تیار کر رکھے ہیں واسطے ان کے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں رہیں گے ہمیشہ اس میں یہی ہے بڑی کامیابی]  ایک مقام پر فرمایا : {وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ}3 [اور البتہ تحقیق اس نے درگزر کی تم سے]

(۳) ’’داڑھی اسلام میں ہے اسلام داڑھی میں نہیں ہے‘‘ سوال نمبر۳ میں آپ نے یہ الفاظ لکھے ہیں جبکہ پہلے آپ لکھ آئے ہیں ’’داڑھی اسلام میں ہے سارا اسلام داڑھی میں نہیں ہے‘‘ دوسرے الفاظ قدرے درست ہیں مگر ان سے داڑھی کٹانے کٹوانے یا کاٹنے کترنے کا جواز نہیں نکلتا دیکھئے  اس وزن پرکوئی صاحب اگر کہیں ’’نماز اسلام میں ہے سارا اسلام نماز میں نہیں ہے ، زکاۃ اسلام میں ہے سارا اسلام زکاۃ میں نہیں ہے ، روزہ رمضان اسلام میں ہے سارا اسلام روزہ رمضان میں نہیں ہے ، حج اسلام میں ہے سارا اسلام حج میں نہیں ہے ‘‘ حتی کہ یہ بھی کہہ دے ’’توحید باری تعالیٰ اسلام میں ہے سارا اسلام توحید باری تعالیٰ میں نہیں ہے‘‘ تو آپ غور فرمائیں ان الفاظ وکلمات سے نماز ، زکاۃ ، روزہ رمضان ، حج اور توحید کے ترک کا جواز نکلے گا یا ان ارکان خمسہ کے اندر نقص وکمی کا جواز نکلے گا یا ان کا فرض نہ ہونا نکلے گا؟؟؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ اس میں اسلام کی ایک چیز کو اپنانے اور اسلام کی دوسری چیزوں کو نہ اپنانے پر قدغن ہے اور اسلام کی تمام چیزوں کو اپنانے کی تلقین وتاکید ہے ۔ واللہ اعلم                       ۷/۶/۱۴۲۰ہـ

1[البینہ ۸پ۳۰]2[التوبۃ ۱۰۰پ۱۱] 3[آل عمران ۱۵۲ پ۴]


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 ص 515

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ