سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35) كيا صحابہ کرام کے دور میں اجماع منعقد تھا؟

  • 21800
  • تاریخ اشاعت : 2017-08-12
  • مشاہدات : 109

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دور میں اجماع کا منعقد ہوناممکن تھا؟(فتاویٰ الامارات:56)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دور میں اجماع کا منعقد ہوناممکن تھا؟(فتاویٰ الامارات:56)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے دور میں بھی اجماع ممکن نہیں تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہوتے ہوئے تو وہ ایک دوسرے کے قریب تھے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد جب اجماع کی ضرورت تھی تو اس وقت تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  ایک دوسرے سے الگ ہوچکے تھے۔فتوحات کی وجہ سے۔

تویہ کیسے ممکن ہے کہ ہم تصور کریں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  آپس میں ملے اور ایک مسئلہ پر انھوں نے اجماع کیا۔تو یہ کہاں جمع ہوئے؟اور کون ان سے ملا؟کہ جس نے ان صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے اجماع نقل کیا۔تو یہ ساری باتیں ثابت ہونا ناممکن ہے۔

یہاں اس سے بھی واضح ایک بات ہے کہ اس طرح کے اجماع کے بجائے مسلمان کے لیے یہی کافی تھا کہ بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے اس مسئلہ کے بارے میں یہ موقف ا پنایا بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے یہ کام ثابت ہے۔تو یہ چیز بھی ان کے لیے دلیل بن سکتی ہے کہ جس سے وہ استدلال کریں۔اجماع کی ایک اور قسم ہے کہ جسے اجماع سکوتی کہا جاتاہے ۔یہ عام اجماع کو شامل نہیں ہے۔

مثلاً:بہت سارے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی موجودگی میں اگر ایک شخص ایک بات کرے یا کوئی بھی کام کرے کہ جس کا شریعت سے تعلق ہو اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  اس پر خاموش رہیں تو دل تو اس طرح کے اجماع پر مطمئن ہوتاہے،اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن یہ ایسااجماع نہیں ہے کہ جس طرح اس کی تعریف کی جاتی ہے۔جیسے کہاجاتاہے کہ امت کا اجماع ہے۔یا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کا اجماع ہے،کیونکہ یہ اجماع نسبی ہے۔

مثلاً جیسے صحیح بخاری (1/338) میں آتا ہے کہ:

"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔اپنی خلافت کے زمانہ میں تو خطبہ میں ایک سجدہ والی آیت انہوں نے پڑھی تو منبر سے اترے اور سجدہ کیا،ان کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے بھی سجدہ کیا۔پھر اگلے جمعہ خطبیہ ارشاد فرمایا تو اس میں سجدہ کی آیت پڑھی تو لوگ سجدہ کرنے کےلیے تیار ہوجائے کہ جس طرح پہلے جمعہ میں انہوں نے کیاتھا۔توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت ہم پر فرض نہیں کیا۔مگر یہ کہ ہم چاہیں۔تو یہ ہے اجماع سکوتی،کیونکہ جمعہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور تابعین  رحمۃ اللہ علیہ  بہت سارے لوگ تھے لیکن کسی نے نہ اس کا انکار کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کتاب وسنت میں سے کوئی دلیل پیش کی۔تو بلاشبہ اس طرح کی مثالیں دیکھ کر دل مطمئن ضرور ہوتا ہے۔بجائے اس کے کہ متاخرین کے ان میں سے جیسے احناف کہتے ہیں کہ سجدہ تلاوت واجب ہے۔اس کو چھوڑنے والا گناہ گار ہوتا ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ البانیہ

علم استدلال نقلیہ اور اصول فقہ کے مسائل صفحہ:127

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ