سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(458) شادی شدہ زانی کی حد

  • 1916
  • تاریخ اشاعت : 2012-09-01
  • مشاہدات : 1826

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
(1) اپنی حقیقی لڑکی سے ہمبستری کر لی حالانکہ اس کی بیوی موجود ہے جو کہ حقیقی لڑکی کی والدہ ہے اب زانی مذکور شخص کے نکاح پر کیا اثر پڑا اگر مذکور شخص کی بیوی بوجہ زنا کے مطلقہ ہو گئی ہو تو دوبارہ گھر میں آباد رکھنے کی کیا صورت ہو گی؟
(2)ایک شخص نے اپنی حقیقی ساس سے ہمبستری کر لی حالانکہ اس کی بیٹی موجود ہے اب اس مذکور زانی کے نکاح پر کیا اثر پڑا اگر زانی کی عورت بوجہ زنا کے مطلقہ ہو گئی ہو تو دوبارہ گھر میں آباد رکھنے کی کیا صورت ہو گی؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(1) اپنی حقیقی لڑکی سے ہمبستری کر لی حالانکہ اس کی بیوی موجود ہے جو کہ حقیقی لڑکی کی والدہ ہے اب زانی مذکور شخص کے نکاح پر کیا اثر پڑا اگر مذکور شخص کی بیوی بوجہ زنا کے مطلقہ ہو گئی ہو تو دوبارہ گھر میں آباد رکھنے کی کیا صورت ہو گی؟

(2)ایک شخص نے اپنی حقیقی ساس سے ہمبستری کر لی حالانکہ اس کی بیٹی موجود ہے اب اس مذکور زانی کے نکاح پر کیا اثر پڑا اگر زانی کی عورت بوجہ زنا کے مطلقہ ہو گئی ہو تو دوبارہ گھر میں آباد رکھنے کی کیا صورت ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جناب کی دونوں مسئولہ صورتوں میں زانی شادی شدہ ہے جیسا کہ سوال کی عبارت سے واضح ہے اور سب جانتے ہیں کہ اسلام میں ایسے شخص کی سزا رجم ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا نظریہ ’’فَلاَ حَدَّ عَلَیْهِ‘‘ محرمات ابدیہ سے نکاح کرنے کے بعد وطی کرنے والوں کے متعلق ہے آپ کے سوال میں ذکر کردہ صورتوں کے متعلق نہیں ہے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

نکاح کے مسائل ج1ص 322

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ