سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(350) مسواک کا حکم

  • 17957
  • تاریخ اشاعت : 2017-01-30
  • مشاہدات : 172

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسواک کا کیا حکم ہے؟ اور مسلمان کو کس ہاتھ سے مسواک کرنی چاہئے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسواک کرنا ایک مسنون عمل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بہت سے فرامین میں اس کی تلقین فرمائی ہے۔ ([1]) رہا یہ مسئلہ کہ کس ہاتھ سےمسواک کی جائے؟ تو ہمارے سامنے اس بارے میں کوئی خاص نص نہیں ہے۔ البتہ علماء میں سے کچھ نے دائیں ہاتھ اور کچھ نے بائیں ہاتھ کا لکھا ہے، اور ان دونوں اقوام کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی ہے۔ بالخصوص جن حضرات نے دائیں ہاتھ کا کہا ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر عمل میں دائیں جانب کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب التیمن فی دخول المسجد وغیرہ، حدیث: 426 و صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب لتیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268 و سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب فی الانتعال، حدیث: 4140) (محمد ناصر الدین البانی)


[1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای: اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو انہیں عشاء کی نماز دیر سے پڑھنے اور ہر نماز کے وقت/ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ، حدیث: 887 و صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب السواک، حدیث: 252 مسواک کی پابندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ ایک روایت میں ہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے۔ صحیح مسلم، کتاب الطھارۃ، باب السواک، حدیث: 253۔ (عاصم)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

احکام و مسائل، خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

صفحہ نمبر 296

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ