سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(42) کیا میت کی طرف سے قربانی جائز ہے؟

  • 15121
  • تاریخ اشاعت : 2016-04-06
  • مشاہدات : 944

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا میت کی طرف سے  قربانی جائز ہے؟ اور  اسے اس کا ثوب  پہنچتا ہے ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میت کی طرف سے  قربانی سنت ہے ،اس کا ثواب  اسے بلاشبہ  پہنچتا ہے ۔اس موضوع  سے متعلق جو حدیثیں  مروی  ہیں ان  پر ایک  نظر  ڈالنے سے حقیقت واضح  ہوتی  ہے ان میں  مذکور ہے  کہ نبیﷺ اپنے،  اپنےگھروالوں  اور اپنی  امت  کے  ہر شخص کی طرف سے قربانی  کرتے تھے  جو توحٰد  ورسالت  کی شہادت  دے ۔ظاہر ہے  امت  محمدیہ  میں بہت  سے حضور ﷺ کے زمانے میں موجود  تھے ۔اور کچھ  ان کی زندگی  ہی میں  وفات  پاچکے تھے  امت  کی طرف سے  قربانی  میں بلاتفریق زندہ  اور وفات  یافتہ  دونوں طرح  کے  لوگ داخل ہوجاتے ہیں ۔ یہ حدیث  بہت سے  محدثین  نے متعدد  سندوں  سے نقل کی ہے ۔ روایت کرنے  والے صحابی ہٰں : حضرت  جابر'  ابو طلحہ انصاری ۔انس  بن مالک  'عائشہ'ابو ہریرہ  ،حذیفہ  بن اسید 'ابورافع' علی ۔(مولانا عظیم  آبادی  نے ان صحابہ  کرام کی تمام حدیثیں  مع حوالہ  نقل  کی ہیں اور ان  کی سندوں  پر تفصیلی  کلام کیا ہے ۔اہل علم  اسل رسالے  کی طرف  رجوع  کرسکتے ہیں یہاں  عام قارئین  کے  لیے سب  کا ترجمہ زیادہ  مفید معلوم  نہیں ہوتا) اس حدیث  کی بعض  سندیں  صحیح" بعض  حسن  اور قوی 'اور بعض  ضعیف  ہیں 'مگر  ان کے  ضعف  سے اصل  حدیث  کی صحت  پر اثر  نہیں پڑتا۔حضرت  عائشہ کی  صحیح  حدیث  جو مسند  احمد 'صحٰیح  مسلم  اور سنن  اب داؤد  میں مروی  ہے ۔میت  کی طرف  سے قربانی  کے استحباب  پر دلالت  کرنے کے لیے  کافی ہے ۔اس کی  تائید  باقی دوسرے  صحابہ کی  حدیثوں سے ہوتی ہے ۔ان سب  واضح  طور پر  پتہ چلتا ہے  کہ  اگر آدمی  اپنی طرف  سے"  اہل وعیال  'گھر  والوں  اور میت  کی طرف  سے قربانی  کرے  اور ان سب  کو ثواب میں  شریک  کرنا چاہے تو جائز ہے ۔" مرقاة  شرح  مشكاة " میں ہے  کہ شیخ  عبدالطیف  بن عبدالعزیز  ابن الملک  فرماتے ہیں: یہ حدیث  میت کی طرف  سے قربانی کے جواز  پر دلالت  کرتی ہے ۔

امام  نووی  شرح  صحیح  مسلم میں فرماتے ہیں  :حضرت  عائشہ  کی حدیث  سے ان لوگوں  سے استدلال کیا ہے  جو قربانی  اور اس کے ثواب  میں اپنے علاوہ  دوسروں  کو بھی شریک  کرنے کے قائل  ہیں ۔یہی ہمارا  اور جمہور کا مذہب ہے۔امام ثوری  اور امام ابو حنیفہ  اور  ان کے مقلدین  اسے مکروہ  قرار دیتے ہٰیں۔ ۔۔۔۔مذکورہ  بالاحدیثوں  سے اس کی تردید  ہوتی ہے ۔

امام ترمذی  حضرت  علی  کی حدیث  نقل  کرنے  کے بعد  فرماتے ہیں :بعض  علمائے  میت  کی طرف  سے قربانی  کرنا جائز بتاتے ہیں ۔اور کچھ لوگ اس کے قائل نہیں۔امام ابن  المبارک  فرماتے ہیں: میرے نزدیک   بہتر یہ ہے کہ  میت  کی طرف  سے صدقہ  کرے قربانی  نہ کرے ۔اگر  قربانی  کی تو اس میں سے  خود کچھ نہ کھائے ۔ بلکہ  سب صدقہ  کردے ۔

شرح  السنہ میں  امام بغوی  نے بھی  اسی طرح  علماء کے اختلاف  کی طرف اشارہ  کیا ہے  ۔میرے نزدیک  جو لوگ  جواز  کے قائل ہیں  ان کاقول  دلیل کے مطابق ہے ،مانعین  کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔لہذا ان کی رائے   اس وقت تک قبول نہیں  کی جائے گی  جب  تک کہ اس سے زیادہ کوئی قوی دلیل پیش نہ ہو۔اور ایسی  کوئی دلیل موجود نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ سے کہیں یہ منقول نہیں  کہ انھوں نے  جو قربانی  اپنی  اور اپنے  گھروالوں  اور زندہ  اور وفات  یافتہ  امتیوں  کی طرف  سے کی تھی وہ سب  یامیت  کے حصہ  کے بقدر  صدقہ  کردیاتھا۔ بلکہ  حضرت  ابورافع  کی حدیث  سے معلوم  ہوتا ہے  کہ اسے  مسکینوں کو بھی کھلاتے  خود بھی کھاتے  اور اپنے اہل وعیال  کو بھی کھلاتے  تھے۔ دوسروں  کو بھی  اسی طرح  قربانی کا گوشت  کھانے کھلانے  کاحکم دیتے تھے ۔جیسا کہ  احادیث میں وارد  ہے ۔حضور  سے  اس کے خلاف  کوئی  بات ثابت  نہیں ۔انھوں نے  جیسا  کیا ہمیں بھی بلا  کسی اختلاف  کے اسی طرح  کرنا چاہیے  ' جب تک  کہ اس کی  خصڈوصیت  حضورﷺ کے ساتھ  ثابت  نہ ہو۔اگر ہم چاہیں  تو ایک  'دو یا تین  جانور کی قربانی اپنی۔اپبے گھروالوں اور میت کی طرف سے کرسکتے ہیں ۔یہ ان سب کی طرف سے کافی ہوگی ۔اس کاثواب  بھی انھیں  انشاء اللہ  ضرور پہنچے گا۔ ہمیں اس کا اختیار ہے  کہ  گوشت خود  کھائیں ' دوسروں کو کھلائیں  یا صدقہ کریں  ۔ہاں  اگر قربانی  صرف  میت کی طرف سے  کی جارہی  ہو اور اس میں  زندہ لوگ  شریک نہ ہوں   تو یہ فقراء  ومساکین  کاحق ہے  جیسا کہ  امام ابن المبارک  نے فرمایا ہے:  والله اعلم  اعلمه اتم

مفقود الخبر کی  بیوی کے بارے میں شریعت کا حکم 

( مولانا کی یہ تحریر  عربی میں مجموعہ  فتاوی (قلمی) زیر رقم 268'ق22/ب24/1 میں موجود ہے ،یہاں  اس کا مختصراردو ترجمہ  درج کیاجارہا ہے ) شادی شدہ عورت سے نکاح کی حرمت  نص صریح سے ثابت ہے ،اللہ تعالیٰ  ارشاد فرماتا ہے  "والمحسنات من النساء۔۔۔۔۔"یعنی تم پر وہ عورتیں بھی حرام ہیں  جو شادی شدہ  ہوں خواہ وہ مسلم  ہوں یا  غیر مسلم  ' شوہر سے جدائی  کے بغیر ان سے نکاح  جائز نہیں 'الا یہ کہ  قید کرنے  کے بعد  لونڈی  بنالی گئی  ہوں ۔ حافظ  ابن کثیر  نے اپنی تفسیر  میں اس آیت  کے شان نزول   میں مسند احمد کی ایک حدیث نقل کی ہے  جس میں  ابو سعید خدری  فرماتے ہیں  کہ غزوہ  اوطاس  میں  ہم نے  کفار کی  بہت سی عورتیں  قید کیں ۔ مگر  چونکہ ان کے شوہر  موجود تھے  اس  لیے  انھیں  ہاتھ  لگانا ہم نے  پسند  نہ کیا' جب  رسول اللہﷺ سے ہم نے  اس سے متعلق  دریافت  کیا تو  مذکور ہ آیت نازل  ہوئی ۔پھر  وہ ہمارے  لیے حلال ہوگئیں ۔یہ حدیث  مسلم 'ابوداؤڈ' نسائی  اور ترمذی  وغیرہ میں بھی  موجود ہے۔

شادی  شدہ  عورت سے نکاح  کی حرمت  پر پوری  امت کا اتفاق  ہے' چونکہ  مفقود الخبر  کی بیوی  بھی شوہر والی ہے ۔اس لیے اصل  یہ ہے کہ  اس سے نکاح  بھی حرام ہو ۔کتاب  وسنت  کے واضح  اور قطعی  دلائل  سے ظاہر  ہوتا ہے  کہ نکاح  ہی سے  حقوق  زوجیت ' نفقہ ،وراثت  اور  دیگر احکام  ثابت  ہوتے ہیں ۔ نیز  اللہ تعالیٰ  نے  بیویوں  کے ساتھ  اچھا سلوک  کرنے  کاحکم  دیا ہے  اور انھیں  تکلیف  پہنچانے  کی غرض  سے روکے  رہنے سے  منع  فرمایا ہے ،انھیں  اچھی طرح  رکھنے یا بھلائی  کے ساتھ چھوڑدینے  کی تعلیم  دی ہے 'اور کسی  طرح  کی تکلیف یاضرر پہچانے  سے روکا ہے نکاح  یا زوجیت  سے نکلنے  کی تین صورتیں  شریعت  سے ثابت  ہیں : طلاق' فسخ  نکاح 'موت  پس اگر  منفقود  الخبر  کی بیوی  کے ساتھ  ایسی صورت  پیش آئے  کہ اس  کے پاس  نان ونفقہ  کے لیے  کچھ  نہ ہو' تو  اسے روکے رہنا  اور جبرا اسے  اپنے شوہر  کی زوجیت  میں باقی  رکھنا  اس کے ساتھ  زیادتی  ہوگی 'خصوصا جب  کہ شوہر  طویل  مدت سے غائب  ہو' اور عورت  بغیر  نکاح  کے تکلیف  محسوس  کرے  تو یہ فسخ  کی ایک معقول  وجہ ہوگی ۔اور اس صورت  میں فسخ  کرنا مناسب  ہوگا ؛کیونکہ  کتاب  و سنت میں  عورت کو تکلیف  پہنچاتے  ہوئے روکے رہنے  سے کئی  جگہ واضح طور پر ممانعت آئی ہے ۔لہذا اس عورت کو تکلیف  پہنچاتے  ہوئے  روکے  رہنے سے  کئی جگہ  واضح  طور پر ممانعت  آئی ہے لہذا اس عورت  سے ہر ممکن  طریقے  پر تکلیف  دور  کرنا جائز ہے  بلکہ واجب ہے ۔خواہ  اس کے لیے فسخ  کی ضرورت  ہی کیوں  نہ پیش آئے۔ مفقود  الخبر  کی بیوی  میں ضرر کی مختلف  صورتیں  پائی  جاتی ہیں" اس لئے  اگر  وہ شرعی  عدالت  میں اپنا  معاملہ  پیش  کرنا چاہیے تو جائز  ہے 'اور قاضی  کو چاہیے کہ وہ اسے ضرر اور تکلیف سے نجات  دلائے ۔ یہ طریقہ  اس صورت  میں اختیار  کرے گی جب  کہ اسے  اس کے مفقود الخبر  شوہر نے نان نفقہ  کے لیے دے رکھا ہو'اور اسے اس لحاظ سے تو پریشانی  نہ ہو مگر  بغیر  شوہر کے رہنا  اس کے لیے دشوار ہو۔اور اگر ایسی صورت  پیش آئے کہ نان نفقہ کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو' تب  تو یہی  ایک وجہ  نکاح  فسخ کرانے کے لیےکافی  ہے،خواہ شوہر  موجود  ہو یامفقود الخبر ۔مختلف  آیات  اور احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ان  میں سے  ایک حدیث "لاضررولاضرارفي الاسلام"(اسلاممیں ضرروتکلیف نہ خود سہنا  ہے۔ نہ  دوسرے کو پہنچانا مشہور ہے ' جو حضرت  ابن عباس 'عبادۃ بن صامت 'ابو سعید خدری 'ابو ہریرہ 'ابو لبابہ 'ثعلبہ بن مالک ' جابر' عائشہ  سے مروی ہے ۔(اس کے بعد مولانا نےایک حدیث  نقل  کرنے کے بعداس کی تحقیق کی ہے ۔خالص فنی  بحث  ہونے کی وجہ سے  یہاں اس کا ترجمہ کرنا عام  قارئین  کے لیے  زیادہ  مفید  ہیں معلوم  ہوتا۔اہل علم  اصل ماخذ کی طرف رجوع کرسکتے ہیں )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی

ص358

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ