سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(179) عیدین کی 12 تکبیروں کا ثبوت

  • 14291
  • تاریخ اشاعت : 2015-12-29
  • مشاہدات : 846

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته



عیدین کی بارہ تکبیروں کا ثبوت کون سی کتاب میں ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عیدین کی بارہ تکبیروں کا ثبوت کون سی کتاب میں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
۔ عن عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي عِيدٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً، سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا، وَلَا بَعْدَهَا۔ (رواہ احمد کذا فی نیل الاوطار ابن ماجه سندھی: ج۱باب ما جاء کم یکبر الامام فی صلاة العیدین ص۳۸۷)

’’رسول اللہﷺ نے عید کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں، پھر دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہیں۔‘‘

عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي العِيدَيْنِ فِي الأُولَى سَبْعًا قَبْلَ القِرَاءَةِ، وَفِي الآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ القِرَاءَةِ
وَفِي البَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. حَدِيثُ جَدِّ كَثِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا البَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،۔ (جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی: ج۱ص۳۷۶، والتعلیق المغلی علی الدارقطنی: ج۲وشرح السنة ج۲ص۶۰۵)

’’کثیر بن عبداللہ اپنے والد کے ذریعہ اپنے داد عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نےعیدین کی نما ز میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہیں اور دوسری رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔‘‘

امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عید کی نماز کی تکبیروں کے بارے میں دوسری تمام حدیثوں سے زیادہ صحیح ہے، یعنی اس مسئلہ کے بارے میں دوسری حدیثوں کی بہ نسبت اس حدیث میں ضعف بہت کم درجے کا ہے۔ (دارقطنی مع التعلیق المغنی ج۲ص۴۸)

امام ترمذی فرماتے ہیں:

وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ، [ص:417] وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ صَلَّى بِالمَدِينَةِ نَحْوَ هَذِهِ الصَّلَاةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ المَدِينَةِ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ،۔(جامع ترمذی مع تحفة الاحوذی)

قال الشیخ سلام اللہ فی المھلی وھو حجۃ الشافعی وأحمد ومالک وروی ذلک عن ابن عمر وابن عباس وأبی سعید الخدری۔

حافظ عبدالرحمٰن مبارکپوری فرماتے ہیں:

قلت وقد عمل به أبو بکر وعمر رضی اللہ عنہما۔ (تحفة الأحوذی: ج۱ص۳۷۷)

خلاصہ یہ کہ امام شافعی، امام احمد اور امام مالک نے اپنے مسلک کی حمایت میں اسی حدیث کو دلیل ٹھہرایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، ابو سعید خدری، حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فارروق رضی اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے اور اسی پر عمل ہے۔

دوسرا مسلک حضرت عبداللہ بن مسعود سے ایک مرفوع حدیث کے مطابق نماز عید کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور تکبیر رکوع سمیت پانچ تکبیریں کہی جائیں پھر قرأت کے بعد رکوع کیا جائے، پھر دوسری رکعت میں قرأت کے بعد رکوع سمیت چار تکبیریں کہی جائیں۔ (عون المعبود مع سنن ابی داأد)

یہ طریقہ بعض دوسرے صحابہ سے بھی مروی ہے مگر کوئی مرفوع حدیث قابل اعتماد اس طریقہ کے اثبات میں موجود نہیں۔مگر پہلا طریقہ بلحاظ سند دوسرے طریقہ سے پہتر ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فارق رضی اللہ عنہم کا عمل اسی پہلے طریقہ پر رہاہے۔ اور وجوہ ترجیح میں ایک وجہ یہ ہے کہ جس حدیث پر خلفائے راشدین کا عمل ہو تو وہ دوسری حدیث پر راجح ہونی ہے، جیسا کہ امام محمد بن موسیٰ حازمی اپنی کتاب ’’الاعتبار‘‘ میں تصریح فرماتے ہیں:

الحادی والثلاثون فی ترجیح الاخبار أن یکون إحد الحدیثین قد عمل به الخلفاء الراشدون دون الثانی فیکون الد ولذلک قدمنا روایة من روی فی تکبیرات العیدین سبعا، خمسا علی روایة من روی اربعا کأربع الجنائز لأن الأول قد عمل به أبو بکر وعمر رضی اللہ عنه فیکون الی الصحة اقرب والأخذبه أصوب۔ (کتاب الاعتبار: ص۱۹)

’’ترجیح کی اکتیسویں وجہ یہ ے کہ دو مخالف حدیثوں میں سے جس حدیث پر خلفائے راشدین نے عمل کیا ہو تو وہ حدیث اس حدیث پر راجح ہوگای جس پر خلفائے راشدین کا عمل ثابت نہ ہو۔ اس لئے ہم نے ۱۲ تکبیروں والی حدیث کو چار تکبیروں والی حدیث پر ترجیح دی ہے کیونکہ ۱۲ تکبیروں والی حدیث پر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فروق رضی اللہ عنہ کا عمل ہے۔‘‘

مزید تفصیل کے لئے نیل الاوطار کی طرف رجوع کیا جائے ج۳ص۳۳۸تا۳۴۰۔ ھذا ماعندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

فائدہ:

عیدالاضحیٰ کا چاند نظر آ جانے پر تکبیروں کا آغاز ہو جاتا ہے، پھر جب امام نماز کے لئے نکلے تو تکبیریں ختم کر دینی چاہئیں۔ (کتاب الام للشافعی: ج۲ص۲۰۵)

تنبیہ:

مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہعلیہ کی کتاب ’’رسول اکرم کی نماز‘‘ (ص۱۲۲) پر کثیر بن عبداللہ بن کثیر لکھا گیا ہے، یعنی تصحیف ہوگئی۔ صحیح کثیر بن عبداللہ ہے۔ ملاحظہ ہو تحفۃ الاخوذی (ج۱ص۳۷۷) وسنن دارقطنی (ج۲ص۴۸) صحیح ابن خزیمہ ج،ص۴ بیہقی ج۳ص۲۵۸۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص544

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ