سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

عورت کا بیوٹی پارلر جانا

  • 14
  • تاریخ اشاعت : 2011-09-18
  • مشاہدات : 3095

سوال

السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس بارے میں کہ کوئی شخص اپنی عورتوں کو باہر بیوٹی پارلر بھیجتا ہے اگر چہ اس عمل میں کوئی خلاف شریعت کام نہ ہو۔؟


 الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اصولاً عورت کے لیے ضروریات زندگی، مستحبات اور مباحات کے لیے اپنے گھر سے باہر نکلنا جائز ہے۔ پس عورت اپنی  تزئین وآرائش کے لیے بیوٹی پارلر جا سکتی ہے بشرطیکہ شرعی اصول وضوابط کی پاسداری کی جائے مثلاً عورت ستر وحجاب کی پابندی کے ساتھ گھر سے باہر نکلے یا بیوٹی پارلر میں غیرشرعی کاموں سے اجتناب کرے مثلاً  بھنویں بنوانا یا ستر میں شامل جسم کے اعضا کی ویکس وغیرہ کروانے کے لیے ستر کو کھولنا وغیرہ یا خاوند کے علاوہ غیر محرم مردوں کے لیے تیار ہونا۔وغیرہ

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ