سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(140) نماز جنازہ کے بعد مروجہ دعا کی شرعی حیثیت

  • 13897
  • تاریخ اشاعت : 2015-03-04
  • مشاہدات : 1846

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کچھ عرصہ پہلے جامع مسجد برمنگھم میں آپ نے ایک جنازہ پڑھایا ۔ نماز جنازہ کےبعدجیسا کہ رواج ہے آپ نے دعانہ  مانگی اس کےبعد دوسرے امام نے دعا کو ضروری قرار دیا اورجو دعا نہیں مانگتے ان کی مذمت بھی کی۔ جس سےسے وہاں شور ہوا اور کچھ بدمزگی بھی پیدا ہوئی۔آپ قرآن وسنت کی روشنی میں اپنے موقف کی وضاحت کریں۔ دوسرے فریق کی طرف سے جو دلائل مجھے بھیجے گئے ہیں ان کی کاپی بھی آپ کو دے رہا ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمانوں کی اکثریت کی دینی علوم سے ناواقفیت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے جو کام رسم و رواج کےطور پر جاری ہوچکے ہیں (جب کہ ان کا قرآن و حدیث یا ائمہ دینؒ کے اقوال میں کوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا) ان میں ایک جنازے کےبعد مروجہ دعا بھی ہے۔ شرعی اصولوں سے ناواقف لوگ جب یہ سنتےہیں کہ فلاں آدمی دعا کا قائل نہیں تو وہ جذبات میں آکر لڑائی جھگڑا شروع کردیتے ہیں اور دلائل سے بات کرنے کی طرف نہیں آتے۔ حالانکہ مطلق دعا کا کوئی مسلمان منکر نہیں ہوسکتا ۔ ہر شخص اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے بارے میں جب چاہے اللہ سے  دعا کرسکتا ہے لیکن اس مسئلے میں بات صرف دعا کرنے کی نہیں بلکہ غور طلب بات یہ ہے کہ ایک معاملے میں رسول  اللہﷺ الف سے لے کر یا تک یعنی اول سے لے کر آخر تک ایک طریقہ بتاتےہیں کہ فلاں وقت فلاں جگہ یہ کام اس طرح کرناہے۔ آپ حمد ’ ثنا’ درود اور دعا ہر ایک کےبارے میں بتاتے ہیں کہ کون سے چیز کہاں اور کیسے کرنی ہے۔ا ب ایسے معاملے میں اگر کوئی شخص ایک چیز اپنی طرف سے شامل کرکے رسول اللہ ﷺ کے طریقے میں اضافہ کرےگا تو ہم نہ  اس چیز کو قبول کریں گے اور نہ ہی جائز قرار دے سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم ایسے فروعی مسائل میں سختی یا تشدد کے قائل نہیں ہیں۔ ان مسائل کو بنیاد بنا کر دوسروں کےخلاف نفرت پھیلانے کو ہم مسلمان دشمنی سمجھتے ہیں۔کیونکہ ایک فروعی مسئلے کو جزباتی رنگ دے کر بیان کرنا اہل علم کی شان ہرگز نہیں بلکہ ایسے مسائل پر خالص علمی انداز سے گفتگو کرناہی مناسب ہوتا ہے۔ بہرحال زیر بحث مسئلے میں ہم تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ کسی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب کے کچھ صفحات کی جو فوٹوکاپی آپ نے دی ہے اسے بھی سامنے رکھیں گے اور ۱۳ مئی ۱۹۸۱ء کے اخبار وطن میں محمد بوستان خاں صاحب کے نام سے جو مضمون شائع ہواہے وہ بھی پیش نظر رہے گا تا کہ قارئین مسئلے کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

    کوئی بھی مسلمان جب اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور دار آخرت کا سفر اختیار کرتا ہے تو اس میت کے لئے زندہ مسلمانوں کی طرف سے سب سے بڑا اور سب سے عمدہ تحفہ دعا ہے کہ اس کے حق میں دعائے مغفرت و بخشش کرے اب اس دعاء کے دو طریقے ہیں۔ ایک انفرادی ’دوسرا اجتماعی

انفرادی دعا: کا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی ہم کسی مسلمان بھائی کے انتقال کی خبر سنتے ہیں تو سب سے پہلے ‘‘ انا للہ و انا الیہ راجعون ’’ پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد ہر شخص اپنے اپنے انداز سے اس کےلئے دعا کے کلمات زبان سے ادا کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے خدا اسے بخشے’ بہت نیک آدمی تھا۔ کوئی کہتا ہے  یہ آدمی غریبوں کی بہت مدد کرتا تھا اللہ اسے جنت نصیت کرے۔ کوئی کہتا ہے اچھا آدمی تھا’خدا اس کی غلطیاں معاف کرے۔ غرض یہ سارے کلمات دعائیہ کلمات ہیں جو ہر شخص اپنے اپنے انداز سے کہتا ہے’وہ دعا کرتاہے۔ اگر کسی نے کسی کی وفا ت کی خبر سننے کے بعد نماز  پڑھی  تو نماز کے بعد دوسری دعاؤں کے ساتھ یقیناً اس کی بخشش  اور درجات کی بلندی کےلئے بھی دعا کرےگا۔ یہ دعا کا انفرادی طریقہ ہے جس کےلئے کوئی شخص کسی خاص جگہ یا خاص وقت یا خاص شکل اختیار کرنے کا پابند نہیں بلکہ چلتے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے یہ دعائیں کرسکتا ہے اور جن کا مرنے والے سے حقیقی تعلق ہوتا ہے و ہ اس طرح دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

اجتماعی دعاء:  دعا کا دوسرا طریقہ اجتماعی ہے کہ مسلمان بڑی تعداد میں جمع ہو کر میت کےلئے دعا ئے مغفرت کریں۔ اجتماعی دعا کےلئے سوال پیدا ہوتے ہیں کہ یہ دعا کہاں کی جائے؟ میت کے گھر میں یا کسی دوسری جگہ؟ کیسے کی جائے؟ کھڑے ہو کر ’بیٹھ کر یا فرض نماز کےبعد ۔ کب کی جائے؟ میت کےدفن سے پہلے یا بعد یا کس مرحلے پر اور دعائیں کیا کی جائیں؟ الفاظ خود بنائے یا قرآن و حدیث سے تلاش کرے۔ اپنی زبان میں یا عربی میں ؟ یہ ہیں وہ سوالات جن کے جوابات کے بعد مسئلے کی نوعیت کافی حد تک واضح ہوجاتی ہے۔ اب یہ شریعت اور دین کا مسئلہ ہے لہٰذا یہاں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب کےلئے ہم آنحضرت ﷺ کی طرف رجوع کریں گے کہ کیا آپ کے دورمیں کچھ لوگ فوت ہوئے تھے؟ اگر ہوئے تھے تو پھر آپ نے اجتماعی دعا کا کیا طریقہ اختیار فرمایا تھا اور مسلمانوں کو اس سلسلے میں کیا ہدایات دیں۔ چنانچہ جب ہم رسول اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں نہ صرف اجتماعی دعا کا طریقہ موجود ہے بلکہ ایک شخص کے آنکھ بند کرنے سےلے کر قبر پر مٹی ڈالنے تک ایک ایک چیز کی آپ نے وضاحت فرمادی کہ کس موقع پر کیا اور کیسے کرنا ہے۔ اختصار سےمیں ان میں سے اہم چیزوں کا ذکر کرتاہوں ۔ ملاحظہ فرمائیں:

(۱)قریب المرگ آدمی کے پاس لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین کا آپ نے حکم دیا۔(۲)عالم نزع کی کیفیت بیان کی(۳)قریب المرگ کے پاس  سورہ یٰسین پڑھنے کی تاکید کی(۴)دفن و کفن میں جلدی کرنے کا حکم دیا(۵)میت پر نوحہ کرنے اور پیٹنے سےمنع کیا (۶)غسل دینے کا طریقہ اور احکام بیان کئے (۷)کفن کے کپڑے اور اس کی بناوٹ بنائی (۸)مردوعورت کے کفن میں فرق بیان فرمایا (۹)کفن میں اسراف اور قیمتی کپڑا استعمال کرنے کی ممانعت (۱۰)غسل کے بعد خوشبو لگانے کا ذکر (۱۱))جنازہ جلدی لے کر چلنے کا حکم(۱۲)جن لوگوں کے پاس سے جنازہ گزرے وہ کیا کریں(۱۳)جنازہ مسجد میں پڑھا جائے یا کسی کھلی جگہ میں ’اس کا ذکر (۱۴)کن اوقات میں جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے (۱۵)قبر کی بناوٹ کیسے ہونی چاہئے(۱۶)ایک قبر میں کئی آدمیوں کے دفن کرنے کا بیان(۱۷)جنازے سے پہلے میت کے قرض  کی ادائیگی کا مسئلہ(۱۸)امام میت کے سامنے جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو (۱۹)نماز جنازہ کی کیفیت (۲۰)تکبیرات کتنی کہنی چاہئیں (۲۱)ہر تکبیر کے بعد کیا پڑھے (۲۲)قبر میں اتارنےکا بیان (۲۳)مٹی ڈالنے کا ذکر (۲۴)قبر کی ظاہری شکل کیسی ہونی چاہئے (۲۵)قبر پر کھڑے ہو کر دعا کا ذکر(۲۶)میت کے لئے ایصال ثواب اور صدقہ جاریہ کا ذکر (۲۷) سوگواروں کے ساتھ اظہار ہمدردی یا تعزیت کا ذکر (۲۸)مرنے والے کی خوبیان کرنے کی تاکید(۲۹) مرنے والے کی برائیاں بیان کرنے کی ممانعت۔

میت سے متعلقہ  یہ امور جو ہم نے ذکر کئے ہیں ان کا تفصیلاً یا اجمالا ًذکر آپ کو حدیث اور فقہ کی ہر کتاب میں ملے گا اور ان کے احکام و مسائل پر فقہاء کرام نے اپنے اپنے انداز فکر سے بحث بھی کی ہے اور تفصیلات  مینں تھوڑا بہت اختلاف بھی پایا جاتا ہے لیکن سب کا اصل احادیث میں کسی نہ کسی انداز سے ضرور بیان ہواہے۔ اب آپ ایمانداری اور انصاف سے میت سے متعلقہ احکام کی کسی بھی کتاب میں دیکھیں تو آپ کو یہ عنوان حدیث کی کسی کتاب میں یا کسی فقہ کی معتبر کتاب میں ہرگز نظر نہیں آئے گا جس میں نماز جنازہ کے فوراً بعد دوبارہ اجتماعی دعا کی کوئی شکل پائی جاتی ہو یا بیان کی گئی ہو۔

جنازے کی دعا:   بعض جہلا یہ کہتے ہیں کہ جنازہ تو جناز ہ ہے اور دعا تو بعد میں کی جاتی ہے حالانکہ نماز جنازہ دراصل دعا ہی ہے اس کا مقصد ہی میت کی بخشش و مغفرت کی سفارش کرنا ہے اور اجتماعی طورپر دعا کا یہ طریقہ ہے جسے ہم جنازہ کہتے ہیں۔ عام دعا کے آداب میں آپﷺ نے فرمایا کہ پہلے اللہ کی حمدوثنا کیا کرو پھر مجھ پر درود و سلام اس کے بعد جو مانگنا ہے وہ اللہ سےمانگا کرو۔ اسی طرح میت کےلئے اجتماعی دعا کی باقاعدہ مشکل بتائی گئی جس کا نام نماز جنازہ رکھا گیا جس میں تکبیرات کےعلاوہ ثناء ’فاتحہ اور درود شریف پڑھنے کے بعد میت کے  لئے عاجزی سے دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے اجتماعی شکل میں جنازے کے اندر بے شمار دعایئں منقول ہیں اور صحابہ کرامؓ نے آپﷺسے وہ دعائیں سیکھیں جو جنازے کی آخری تکبیر کے بعد آپ میت کی بخشش و مغفرت کے سلسلے میں کیا کرتے تھے۔ اب اس قدر شان اور اہتمام سے جب جنازے کے اندر چوتھی تکبیر کے بعد دعا ثابت ہو گئی تو پھر اس کے فوراً بعد دوبارہ دعا کا اعلان ہرگز قرین قیاس نہیں۔ یہ تو بلکہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی قرآن کی کسی سورت کی زبانی تلاوت کرتا ہے جب وہ ختم کرتا ہے تو پھر کوئی کہتا ہے حافظ صاحب ذرا قرآن پڑھ دیں۔

    جب وہ کہتا ہے میں نے ابھی تلاوت کی ہے’اب آپ دوسری کاروائی شروع کریں تو جاہل یہ کہہ دے کہ حافظ صاحب وہ تو آپ نے تلاوت کی تھی قرآن تو نہیں پڑھا تھا۔ ایسے ہی یہاں کہا جاتا ہے کہ وہ تو جنازہ پڑھا جاتا ہے دعا تو نہیں کی جاتی حالانکہ اس کا لب لباب دعا ہی ہے اور احادیث میں وضاحت کےساتھ آیا کہ جس آدمی کے جنازےمیں چالیس موحد آدمی شامل ہو کر نماز جنازہ پڑھیں تو اللہ ان کی دعا قبول کرتا ہے۔

لہٰذا جناز ہ تو بذات خود اللہ کے ہاں میت کی سفارش اور اس کی بخشش کا طریقہ عبادت ہے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید دوسرے مسائل کی طرح یہ بھی حنفی شافعی کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے۔ ہر گز نہیں ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ فقہ حنفی کا مسئلہ ہے اور حنفی جنازے کے بعد پھر دعا مانگنے کے قائل ہیں وہ حنفی مسلک سے نابلد اور فقہ حنفی سے بالکل ناواقف ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص264

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ