سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(383) ذبح شدہ جانور کے پیٹ سے بچہ کی حلت کا شرعی حکم

  • 12375
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-15
  • مشاہدات : 438

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ذبح شدہ جانور کےپیٹ سے برآمد ہونے والے بچے کا شرعاً کیا حکم ہے ، کیا اسے کھایا جاسکتا ہے یا نہیں ؟اس کی کتاب وسنت سے وضاحت کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر ذبح شدہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کےپیٹ سے مردہ بچہ بھی برآمد ہو تو اس کا کھانا حلال ہے، کیونکہ حدیث کے مطابق اس کی ماں کا ذبح بچے کے لئے کافی ہے، حضرت ابو سعید خدریؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ اونٹنی ،گائے اور بکری ذبح کرتے ہیں ان کے پیٹ سے بچہ برآمد ہوتا ہے، کیا ہم اسے پھینک دیں یا کھالیں؟تو آپ ﷺ نے فرمایا:‘‘اگر پسند کرو تو اسے کھالو کیونکہ اس کا ذبح کرنا ، اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔’’(ابوداؤد،الاضاحی:۲۸۴۲)

لیکن اس بچے کا کھانا ضروری نہیں ہے ، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ‘‘ اگر چاہوتو اسے کھالو۔’’ہاں،اگر پیٹ سے زندہ بچہ برآمد ہوتو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ مستقل ایک جان ہے، جیسا کہ امام احمد ؒ نےاس کی وضاحت فرمائی ہے کہ ’’اگر وہ زندہ نکلے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک مستقل جان رکھتا ہے۔’’( مغنی الابن قدامہ،ص:۳۱۰،ج ۱۳)

اگر مردہ ہے تو وہ حلال ہے اگر دل چاہے تو اس کو کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:391

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ