سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(310) یونین کونسل کی وساطت کے بغیر طلاق دینا

  • 12295
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 443

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں اپنی بیوی کو یونین کونسل کی وساطت کے بغیر اپنے طور پر ہر ماہ طلاق بذریعہ ڈاک ارسال کرتا رہا ہوں ، نصاب طلاق یعنی تین طلاقیں مکمل ہوجانے کے بعد مجھے کہا گیا ہے کہ اپنے طور پر طلاق بھیجنا درست نہیں کیونکہ قانونی اعتبارسے ایسی طلاق غیر مؤثر ہے،پھر میں نے رائج الوقت قوانین کے مطابق بذریعہ یونین کونسل چوتھی طلاق ارسال کردی ، کیا اس طرح طلاق دینے سےبیوی مجھ پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی یا رجوع کرنےکی گنجائش ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اپنی بیوی کو یونین کونسل کی وساطت کے بغیر اپنے طور پر ہر ماہ طلاق بذریعہ ڈاک ارسال کرتا رہا ہوں ، نصاب طلاق یعنی تین طلاقیں مکمل ہوجانے کے بعد مجھے کہا گیا ہے کہ اپنے طور پر طلاق بھیجنا درست نہیں کیونکہ قانونی اعتبارسے ایسی طلاق غیر مؤثر ہے،پھر میں نے رائج الوقت قوانین کے مطابق بذریعہ یونین کونسل چوتھی طلاق ارسال کردی ، کیا اس طرح طلاق دینے سےبیوی مجھ پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی یا رجوع کرنےکی گنجائش ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کے ہاں حلا ل چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے کیونکہ اس فعل سے صرف سے میاں بیوی کےتعلقات ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس سے دوخاندانوں میں دائمی طور پر نفرت اور دشمنی بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے کہ اپنے حق طلاق کو بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرے، طلاق کوئی کھلونا نہیں ہے کہ اسے کوئی ہاتھ لے کر کھیلنے کے لئے بیٹھ جائے۔ لیکن بعض اوقات انسان اس قدر مجبور ہوجاتا ہے کہ حق طلاق اس کے لئے ناگزیر ہوجاتا ہےاور  یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان اختلاف اس قدر شدت اختیار کرجائیں کہ دونوں ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئیں ، پھر دونوں مل کرزندگی گزارنے پر کسی طرح بھی راضی نہ ہوں، ایسے حالات میں طلاق دینا ہی مناسب ہوتا ہے، تاہم اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو ضابطہ وضع فرمایا ہے اس پر عمل پیرا ہونے سے باہمی مل بیٹھنے کی گنجائش باقی رہتی ہے، یعنی ایک یا دو طلاق دینے کی صورت میں اگر عدت گزر بھی جائے تو بھی مطلقہ عورت اور اس کے سابقہ شوہر کے درمیان باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر آدمی وقفہ وقفہ سے تین طلاق دے چکاہو، جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے تو عدت کے اندر رجوع ممکن ہے اور نہ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے اِلاَّیہ کہ عورت کا نکاح کسی اور شخص سے ہواور وہ نکاح صحیح نوعیت کا ہو سازشی نہ ہو، پھر دوسرا شوہر اس سے مباشرت بھی کرچکا ہو، اس کے بعد وہ اسے طلاق دے، یا فوت ہوجائے تو اس کے بعد اگر عورت اور اس کا سابق شوہر باہمی رضامندی سے ازسرنو نکاح کرنا چاہیں تو عدت طلاق یا عدت وفات کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوسکتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں اگرچہ طلاق ملکی قوانین کے مطابق نہیں دی گئی، تاہم شرع کے اعتبار سے وہ نافذ ہوچکی ہے ، اس بنا پر تین طلاق دینے کے بعد طلاق دہندہ پر اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ہے۔ ملکی قوانین اگر شرعی قوانین سے متصادم نہ ہوں تو ان پر عمل ضروری ہے بصورت دیگر شرعی قوانین پر عمل ہوگا۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص318

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ