سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(272) میاں بیوی کی حیات میں وراثت کی تقسیم

  • 12263
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-09
  • مشاہدات : 324

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، میاں بیوی خود بھی حیات ہیں شرعی اعتبار سے جائیدا د کی تقسیم کیسے ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کس کی جائیداد کو تقسیم کرنا ہے، پھر زندگی میں یا مرنے کے بعد جائیداد تقسیم کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ وراثت کے سوالات خوب واضح کرکے لکھا کریں، زندگی میں انسان اپنی جائیداد کے متعلق خود مختار ہے۔ اپنی ضروریا ت کےلئے جتنی چاہیئے  صرف کردے اس سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔ البتہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنے کےلئے مساوات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ اس مساوات میں مردوزن کی بھی تفریق نہیں ہے، یعنی  لڑکوں اور لڑکیوں میں برابر تقسیم ہوگی۔ صورت مسئولہ میں بیوی کو صوابدیدی حصہ دے کر باقی جائیداد کو چار حصوں میں تقسیم کردیا جائے، تین لڑکوں اور ایک لڑکی کو ایک حصہ دے دیا جائے، اگر بعد از موت تقسیم جائیداد کا مسئلہ ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:

(الف)باپ کی وفات کے وقت اگر مذکورہ اولاد زندہ ہوتو ان میں جائیداد تقسیم اس طرح ہوگی کہ بیوی کا آٹھواں حصہ نکالنے کے بعد بقیہ سات حصے اولاد میں یوں تقسیم کردیے جائیں کہ لڑکے کو دو دو حصے اور لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے،یعنی کل جائیداد کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر لیا جائے ایک حصہ بیوہ کے لئے دو دو حصے فی لڑکے اور ایک حصہ لڑکی کو دے دیا جائے۔

(ب)ماں کی وفات کے وقت اگر مذکورہ اولاد زندہ ہو تو جائیداد تقسیم ا س طرح ہوگی کہ خاوند کا چوتھا حصہ نکالنے کے بعد باقی تین حصے اولاد میں اس طرح تقسیم  کردیے جائیں کہ لڑکے کو لڑکی کے حصہ سے دوگنا ملے۔ صورت مسئولہ میں سہولت کے پیش نظر جائیداد کے کل 28 حصے کر لئے جائیں ان کا 4/1 یعنی سات حصے خاوند کو ، پھر چھ چھ حصے ہر لڑکے کو اور تین حصے لڑکی کو دیے جائیں۔

پہلی تقسیم:/8    بیوہ(1)      لڑکا(2)       لڑکا(2)       لڑکا(2)       لڑکی (1)=8

دوسری تقسیم :/8 خاوند (7)     لڑکا(6)   لڑکا(6)    لڑکا (6)      لڑکی (3) =28  (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:286

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ