سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(16) بیت اللہ کے اندر (360) بت نسب تھے

  • 11140
  • تاریخ اشاعت : 2014-04-16
  • مشاہدات : 591

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میلسی سے غلا م محمد لکھتے ہیں  کہ عام طو ر  پر خطبا حضرا ت بیا ن کرتے ہیں کہ بیت اللہ  کے اند ر (340 ) بت نسب تھے  یہ کہا ں تک درست ہے ؟کیا ان میں کسی نبی کا بھی بت تھا  جس کی پو جا کی جا تی  کیو نکہ مشہو ر ہے کہ جو  لو گ   بتو ں کو وسیلہ بنا تے  تھے  وہ  درا صل  اس وقت  کے صلحا  کے فو ت  ہو نے  پر ان  کے بت  بنالیتے  تھے نبی  سے بڑھ  کر زیا دہ  صا لح  کو ن  ہو سکتا ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میلسی سے غلا م محمد لکھتے ہیں  کہ عام طو ر  پر خطبا حضرا ت بیا ن کرتے ہیں کہ بیت اللہ  کے اند ر (340 ) بت نسب تھے  یہ کہا ں تک درست ہے ؟کیا ان میں کسی نبی کا بھی بت تھا  جس کی پو جا کی جا تی  کیو نکہ مشہو ر ہے کہ جو  لو گ   بتو ں کو وسیلہ بنا تے  تھے  وہ  درا صل  اس وقت  کے صلحا  کے فو ت  ہو نے  پر ان  کے بت  بنالیتے  تھے نبی  سے بڑھ  کر زیا دہ  صا لح  کو ن  ہو سکتا ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بیت اللہ کے اند ر 360بتوں کا روا یا ت  میں ضرو رآیا ہے چنانچہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فتح مکہ  کے دن جب مسجد حرا م میں داخل ہوئے  تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے دیکھا کہ بیت اللہ کے ارد گر د 360 بت نصب تھے آپ  کے ہاتھ  میں کما ن تھی آپ اس سے ان بتو ں کو ٹھوکر ما ر تے اور کہتے جا تے :" حق آگیا اور با طل چلا گیا یقیناً با طل جا نے وا لی چیز ہے ۔(17/بنی اسرا یل :81)

"حق آچکا اور معبود با طل نہ تو  پہلی با ر پیدا  کر سکتا  ہے اور نہ دو با ر ہ  پیدا کر ے گا ۔(34/سبا : 39)

آ پ کی ٹھو کر سے بت چہر ے کے بل  گر تے  جا تے ۔ صحیح  بخا ری : کتا ب  التفسیر 4720)

بیت اللہ کے اند ر کچھ  مجسمے اور تصویر یں  ضرو ر تھیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسما عیل  علیہ السلام  کی تصو یر بھی تھی اور ان کے ہا تھ میں فا ل گیر ی کے تیر تھے آپ نے یہ منظر  دیکھ کر فر ما یا : کہ اللہ مشر کین  کو بر با د کر ے انہیں خو ب علم ہے کہ ان دو نو ں پیغمبروں  نے کبھی  فا ل  کے  تیرا  استعما ل  نہیں کئے ۔(صحیح بخا ری : کتا ب المغا زی 4288)

رو ایات میں یہ بھی ملتا ہے  کہ وہا ں حضرت مر یم  علیہ السلام  کی تصویر یں بھی تھیں  جنہو ں  نے حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  کو گو د  میں اٹھا رکھا تھا کسی نبی کا مجسمہ بنا کر بیت اللہ کے اندر رکھا گیا ہو  پھر اس کی عبا دت کی جا تی ہو  اس کا تذکرہ کسی  صحیح روا یت میں نہیں  ملتا جو قا بل  اعتما د  ہو البتہ  لا ت منا ت اور عزی  کے متعلق  وضا حت ہے  کہ یہ  صلحا اور نیک لو گ تھے  اور ان کے مر نے کے بعد لو گو ں نے  ان کے مجسمے بنا لئے اور ان  کی پر ستش  شروع  کر دی  اس طرح جز یرہ عر ب میں  شر ک  کا آغا ز  ہو ا اگر چہ  حضرات  انبیا ء  علیہ السلام  لو گو ں میں سب  سے بڑ ھ کر نیک اور اللہ تعا لیٰ کے  اطاعت  گزا ر  ہیں لیکن  صلحا  سے مرا د  ان کے علا و ہ  نیک  سیر ت اور پا کباز  لو گ ہیں  اگر چہ عیسا ئیوں  نے حضرت  عیسیٰ  علیہ السلام  کے مجسمے بنا کر ان کی عبا دت شروع کر دی  تھی تا ہم بیت اللہ کے اندر کسی نبی کا بت  مو جو د نہ تھا جس کی عبا دت کی جا تی ہو اس کا تذکرہ کسی حدیث یا تاریخ کی کتا ب میں نہیں ملتا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص53

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ