سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

  • 274
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-25
  • مشاہدات : 269

سوال

حاجی کے لیے قربانی کا حکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حاجی پر قربانی کرنا فرض اور واجب ہے؟ اور كيا وہ اپنے ملک ميں بھی قربانی كرے گا؟ برائے مہربانی بادلائل جواب مطلوب ہے۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حج كی تين اقسام ہيں : 1۔ حج مفرد 2۔ حج تمتع 3۔ حج قران . 1۔ حج مفرد : حج مفرد يہ ہے كہ حاجی صرف اكيلاحج ہی ادا كرے ، اور حج تمتع يہ ہے كہ حاجی عمرہ كی ادائيگي كے بعد احرام كھول دے اور پھر حج ادا كرے , اور حج قران يہ ہے كہ حاجی عمرہ اور حج كو ايک ہی احرام ميں ملا كرادا كرے اور اسے حج اور عمرہ كےليے ايک طواف اورسعی كافی ہے . عروہ بن زبير عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا سے بيان كرتے ہيں كہ : عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كہتي ہيں كہ ہم ذوالحجہ كےقريب نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےساتھ نكلے تورسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : جوعمرہ كا احرام باندھنا چاہے وہ باندھ لے اور جوحج كا احرام باندھنا چاہے وہ حج كا احرام باندھ لے ، اور اگر ميں نے اپنےساتھ قرباني نہ لي ہوتي ميں بھي عمرہ كا احرام باندھتا ، توصحابہ كرام رض ميں سے كچھ نے عمرہ كا احرام باندھا اور كچھ نے حج كا ... صحيح بخاري ( 1694 ) صحيح مسلم ( 1211 ) . 2 - حج مفرد : يہ صرف حج ہے اور اس سے پہلے عمرہ نہيں ہوتا ، اور حج مفرد كرنے والے پر قرباني واجب نہيں ليكن قرباني كرنا مستحب ہے . 3 - ليكن حج تمتع اور حج قران ميں قرباني كرني واجب ہے ، اور يہ شكرانے كي قرباني ہے جس ميں حاجي اپنے رب كا شكرادا كرتا ہے كہ اس نے يہ عبادت مشروع كي ، اور حج تمتع ميں حاجي عمرہ اورحج كوجمع كرتا ہے اور عمرہ كرنے كےبعد احرام كھول كرحلال ہوجاتا اور لباس خوشبواور بيوي سے ہم بستري وغيرہ كا نفع حاصل كرتا ہے اس ليے اسے حج تمتع كہتے ہيں سليم بن عبداللہ بيان كرتے ہيں كہ ابن عمر رضي اللہ تعالي نے فرمايا : رسول كريم صلي اللہ نے حجۃ الوداع كے موقع پر عمرہ كےساتھ حج كا نفع حاصل كيا اور ذوالحليفہ سے اپنےساتھ قرباني لے كر چلے اور عمرہ كا احرام باندھا پھر حج كا، اور لوگوں نے نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كےساتھ حج تمتع كيا تولوگوں ميں كچھ ايسے بھي تھے جوقرباني لے كرگئے اور كچھ ايسے بھي تھے جن كےپاس قرباني نہيں تھي . جب نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم مكہ مكرمہ پہنچے تو لوگوں كو فرمايا : جس كےپاس قرباني ہے وہ حلال نہ ہوں حتیٰ كہ حج مكمل كرلے اور جس كے پاس قرباني نہيں وہ بيت اللہ كا طواف اور صفامروہ كي سعي كركے اپنے بال چھوٹے كروائے اور احرام كھول كرحلال ہوجائیں اور پھر بعد ميں حج كا احرام باندھیں، توجوكوئي قرباني نہ پائے وہ تين روزے دوران حج اور سات روزے واپس اپنے گھر جاكر ركھے . صحيح بخاري ( 1606 ) صحيح مسلم ( 1227 ) . 4 - اور ھدي اس قرباني كوكہتے ہيں چوپايوں يعني گائے ، بكري ، اونٹ ميں سے جوجانور حاجي احرام باندھنے سے ميقات سے قبل اپنے ساتھ لے كر بيت اللہ لے جائیں , اور حج قران اور حج تمتع كرنے والے ميں فرق يہ ہے كہ حج قران كرنے والا عمرہ كرنے كےبعد احرام كھول كرحلال نہيں ہوتا بلكہ وہ آٹھ ذوالحجہ تک اپنے احرام ميں ہي رہتا ہے جوكہ حج كا ابتدائي دن ہے . اور سنت يہ ہے كہ دس ذوالحجہ جسے يوم النحر كہا جاتا ہے والے دن يہ قرباني كي جائے . سالم بن عبداللہ بيان كرتے ہيں كہ عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنھما نے فرمايا: رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے عمرہ كوحج كےساتھ ملانے كا نفع حاصل كيا اور قرباني دي يہ قرباني اپنےساتھ لے كرچلے ..... وہاں سے پلٹے اور صفا مروہ پرآكر سات چكرلگائے اور احرام كھول حلال نہيں ہوئے بلكہ حج مكمل كيا اور يوم النحر كوقرباني كرنے اور طواف افاضہ كرنے كے بعد ہر چيز سے حلال ہوئے . صحيح بخاري ( 1606 ) صحيح مسلم ( 1227 ) 5 - اور كسي حاجي كےذمہ لازم نہيں كہ وہ اپنے ملک ميں قرباني كرے كيونكہ قرباني حج كے اعمال ميں سے ہے اور اس كا مكہ ميں ذبح كرنا ضروري ہے، حتیٰ كہ اگر حاجی سے اگر كوئي ممنوعہ چيز كا ارتكاب ہو جائے تو وہ اس كے بدلے ميں جانور اپنےملک ميں ذبح نہيں كرے گا بلكہ اسےمكہ يا منیٰ ميں ذبح كرنا ہوگا . عبدالعظيم آبادي كہتے ہيں : متفقہ طور پر سب قربانياں حرم كي زمين پر ذبح كرنی جائز ہيں ، ليكن حج كي قربانی كے ليے منیٰ افضل ہے اور مكہ خاص كر مروہ عمرہ كی قرباني كےليے افضل ہے . انتہي ليكن اگر حاجی كے ملک ميں اس كے اہل وعيال ہيں اور اس نے انہيں اتنی رقم دی ہے كہ وہ اس سے قربانی خريد كر عيد كےدن ذبح كريں تويہ بہت اچھا اور بہتر ہے . لیکن ضروری نہیں ہے هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتویٰ

ماخذ:محدث فتویٰ کمیٹی