فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9985
(432) وہ دو آدمیوں کی وفات کا سبب بنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 February 2014 11:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہماری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کی وجہ سے دو شخص فوت ہو گئے ‘ ٹریفک پولیس کے مطابق 35 فیصد غلطی میری اور 75 فیصد غلطی دوسری گاڑی والے کی تھی ‘ فوت شدگان میں ایک کے وارثوں نے دیت معافی کر دی جب کہ دوسرے کی دیت لازم تھی اور اسے بھی ادا کر دیا گیا۔ اس قتل کے کفارے کے سلسلہ میں قاضی نے بتایا کہ ہم پر دو ماہ کے روزے بھی واجب ہیں ‘ میں نے جب ایک عالم سے استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ دو نہیں بلکہ چار ماہ کے روزے لازم ہیں ‘ امید ہے آپ رہنمائی فرمائیں گے کہ مجھ پر کیا لازم ہے اور جو روزے لازم ہیں کیا انہیں مسلسل رکھنا ضروری ہے یا نہیں ؟ یا غلطی کی نسبت کا روزوں سے بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح جس طرح آپ نے بیان کیا ہے کہ دو آدمیوں کی وفات کے سبب میں آپ بھی شریک ہیں تو آپ پر ان میں سے ہر ایک کی وجہ سے قتل خطا کا کفارہ لازم ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کر دیا جائے اور اگر وہ میسر نہ ہو تو پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے جائیں ‘ اس کے علاوہ اور کوئی چیز کفارہ سے کفایت نہیں کر سکتی ‘ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا ۚ فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ مُؤمِنَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَ‌ينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾... سورة النساء

‘’ اور کسی مومن کو لائق نہیں کہ وہ کسی دوسرے مومن کو مار ڈالے مگر یہ کہ غلطی ہو جائے اور جو شخص غلطی سے بھی کسی مومن کو مار ڈالے تو ایک مسلمان غلام آزاد کر دے ‘ اور جس کو مسلمان غلام میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ کفارہ اللہ کی طرف سے قبولیت توبہ کیلئے ہے اور اللہ سب کچھ جانتا اور بڑی حکمت والا ہے‘‘۔

وفات کا سبب بننے والوں کی تعداد کا وجوب کفارہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ‘ ان میں سے ہر ایک پر کامل کفارہ لازم ہو گا ‘ ہاں البتہ ایک مقتول کے کفارہ کے طور پر متواتر دو ماہ کے روزے رکھنے کے بعد دوسرے کے قتل کے کفارہ کے روزے شروع کرنے سے پہلے کچھ دن آرام کر لینے میں کوئی حرج نہیں کہ آرام کرنے کے بعد دوسرے قتل کے کفارہ کے متواتر دو ماہ کے روزے شروع کر دے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص393

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)