فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 9979
(426) قتل عمد کے بعد توبہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 February 2014 09:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں قتل کے ایک جرم میں شریک ہوا مگر پکڑا نہ جا سکا اور اب میں اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں ‘ اگر میں اپنے آپ کو پولیس کے سپرد نہ کروں تو الہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے گا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مقتول مومن ہو تو قتل عمد اکبر الکبائر میں سے ہے ‘ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورة النساء

‘’ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا اور اللہ اس پر غضب ناک ہو گا اور اس پر لعنت کریگا اور ایسے شخص کیلئے اس نے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ‘‘۔

اور حدیث میں ہے نبی ؐ نے فرمایا :

((لايزال المرء في فسحة من دينه مالم يصب دما حراما)) ( صحيح البخاري )

‘’ آدمی ہمیشہ اس وقت تک دین کے اعتبار سے فراغی میں رہتا ہے جب تک حرام خون نہیں بہاتا‘‘۔

اگر آپ نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو اس قتل کے ساتھ تین حقوق وابستہ ہیں ۔ -1 اللہ تعالیٰ کا حق ‘ -2 مقتول کا حق ‘ -3 مقتول کے وارثوں کا حق۔

جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے ‘ اگر آپ اس کی بارگاہ میں صدق سدل سے توبہ کر لیں تو وہ اپنا حق معاف کر کے آپ کی توبہ قبول فرما لے گا ‘ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿قُل يـٰعِبادِىَ الَّذينَ أَسرَ‌فوا عَلىٰ أَنفُسِهِم لا تَقنَطوا مِن رَ‌حمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغفِرُ‌ الذُّنوبَ جَميعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ‌ الرَّ‌حيمُ ﴿٥٣﴾... سورة الزمر

‘’ اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہہ دو کہ اے میرے بندو ‘ جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہونا ‘ اللہ تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ تو بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔

جہاں تک مقتول کے حق کا تعلق ہے تو اب مقتول تو زندہ نہیں ہے کہ آپ کیلئے اس سے حق معاف کروانا ممکن ہو ‘ لہٰذا وہ آپ سے قصاص قیادت کے دن لے گا ‘ لیکن امید ہے کہ اگر آپ کی توبہ صحیح ہو اور اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو خوش کر دیگا اور آپ بری ہو جائیں گے ‘ جہاں تک تیسرے حق یعنی مقتول کے وارثوں کے حق کا تعلق ہے تو آپ اس سے اس وقت تک بری نہیں ہو سکتے جب تک اپنے آپ کو ان کے سپرد نہ کر دیں اور ان کے سامنے اقرار نہ کریں کہ آپ نے اسے قتل کیا ہے ‘ پھر انہیں اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو آپ سے قصاص لیں بشرطیکہ قصاص کی شرطیں پوری ہوں اور اگر وہ چاہیں تو دیت لے لیں اور اگر وہ چاہیں تو کچھ لئے بغیر معاف کر دیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص385

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)